جہلم: وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت معاشی ترقی، صنعتی استحکام اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں، یعنی ایس ایم ایز، کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات جہلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نومنتخب عہدیداروں کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

بلال کیانی کے مطابق اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) چھوٹے کاروباری اداروں کو مختلف نوعیت کی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ ایس ایم ایز پاکستان کی معیشت میں روزگار، مقامی پیداوار اور کاروباری سرگرمی کے اہم ذرائع ہیں، اس لیے ان کی مالی، انتظامی اور تکنیکی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کرنا صنعتی پالیسی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

وزیر مملکت نے کاروباری برادری کے کردار کو معاشی ترقی کے لیے اہم قرار دیا اور صنعتی سرگرمی کو مستحکم بنانے کی حکومتی کوششوں کا ذکر کیا۔ سرکاری رپورٹ میں کسی نئے مخصوص مالی پیکیج، قرض اسکیم یا ٹیکس رعایت کا اعلان شامل نہیں تھا، اس لیے بیان کو موجودہ پالیسی اقدامات اور حکومت کی ترجیحات کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو سرمایہ تک رسائی، توانائی لاگت، ٹیکس و ضابطہ جاتی تقاضوں، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اور نئی منڈیوں تک رسائی جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ سمیڈا کا کردار کاروباری منصوبہ بندی، مشاورت اور ادارہ جاتی معاونت سمیت مختلف خدمات سے متعلق ہے۔ حکومت کی جانب سے صنعتی استحکام کا دعویٰ عملی نتائج کے اعتبار سے سرمایہ کاری، پیداوار، روزگار اور کاروباری لاگت کے آنے والے اعدادوشمار سے جانچا جائے گا۔

جہلم چیمبر کی تقریب میں وزیر مملکت نے نجی شعبے اور سرکاری اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ مقامی چیمبرز کاروباری مسائل حکومت تک پہنچانے اور پالیسی پر مشاورت میں کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ ایس ایم ایز کے لیے مؤثر سہولت کاری علاقائی سطح پر روزگار اور کاروباری سرگرمی میں اضافے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔