اسلام آباد: پاکستان اور ترکیہ نے دوطرفہ تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام نے ملاقات کے دوران موجودہ معاشی روابط، نجی شعبے کے کردار اور نئی کاروباری شراکت داریوں کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قریبی سیاسی تعلقات کے باوجود دوطرفہ تجارت کی موجودہ سطح دونوں معیشتوں کی مجموعی صلاحیت کے مقابلے میں محدود سمجھی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے دونوں حکومتیں کئی برس سے تجارتی حجم بڑھانے، ٹیرف اور مارکیٹ رسائی سے متعلق مسائل حل کرنے اور کاروباری برادریوں کے براہ راست روابط مضبوط بنانے پر زور دیتی رہی ہیں۔
تازہ بات چیت میں ٹیکسٹائل، خوراک، انجینئرنگ، تعمیرات، توانائی، دفاعی صنعت اور خدمات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات زیر غور آئے۔ حکام نے کہا کہ مشترکہ منصوبے اور نجی سرمایہ کاری صرف تجارتی اعدادوشمار بڑھانے ہی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور مہارت کے تبادلے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔
پانچ ارب ڈالر کا ہدف ایک مشترکہ پالیسی مقصد ہے اور اس کے حصول کے لیے برآمد کنندگان کو مارکیٹ تک بہتر رسائی، کاروباری ویزا سہولت، نقل و حمل کے مؤثر راستوں اور تجارتی رکاوٹوں میں کمی جیسے عملی اقدامات درکار ہوں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان ترجیحی تجارتی انتظامات اور کاروباری فورمز اس سمت میں پہلے سے موجود ادارہ جاتی ذرائع ہیں۔
فریقین نے سرکاری سطح کے رابطوں کے ساتھ کاروباری اداروں اور چیمبرز کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ ہدف کے حصول کی رفتار آئندہ برسوں میں حقیقی برآمدات، درآمدات اور سرمایہ کاری کے بہاؤ سے واضح ہوگی، اس لیے پانچ ارب ڈالر کو موجودہ تجارتی حجم کے بجائے مستقبل کا متعین کردہ مقصد سمجھا جائے گا۔
