اسلام آباد: پاکستان نے اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کی جانب سے تقریباً 490 ملین ڈالر کے تجارتی قرض کی پیشکش بلند مالی لاگت کے باعث قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خزانہ سے متعلق رپورٹ کے مطابق مجوزہ قرض کی مجموعی لاگت تقریباً آٹھ فیصد بنتی تھی، جو حکومت کے مطلوبہ قریب چھ فیصد مالی ہدف سے زیادہ تھی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو آئندہ مالی مدت میں قرضوں کی واپسی، بجٹ فنانسنگ اور بیرونی ادائیگیوں کے لیے بھاری مالی ضروریات کا سامنا ہے۔ وزارت خزانہ نے مجموعی فنانسنگ ضروریات کو ملکی معیشت کے حجم کے تقریباً 20 فیصد کے برابر قرار دیا ہے، جس کے باعث حکومت کو اندرونی اور بیرونی دونوں ذرائع سے وسائل جمع کرنا پڑتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قرض کی پیشکش تجارتی نوعیت کی تھی اور حکام نے اس کی قیمت کو موجودہ قرض حکمت عملی کے تناظر میں زیادہ سمجھا۔ حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ بیرونی قرض لیتے وقت صرف رقم کی دستیابی نہیں بلکہ شرح سود، مدت، کرنسی کا خطرہ اور مجموعی قرض لاگت بھی دیکھی جانی چاہیے۔ بلند شرح پر نئی فنانسنگ مستقبل میں سودی ادائیگیوں اور بجٹ پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔
پاکستان نے حالیہ برسوں میں کثیرالجہتی اداروں، دوست ممالک، بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ اور تجارتی بینکوں سمیت مختلف ذرائع سے بیرونی فنانسنگ حاصل کی ہے۔ تاہم عالمی شرح سود، ملکی کریڈٹ رسک اور قرض کی پائیداری کے خدشات نئی فنانسنگ کی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے حکومت نسبتاً کم لاگت والے کثیرالجہتی اور دوطرفہ ذرائع کو ترجیح دینے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
قرض کی اس مخصوص پیشکش کو مسترد کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان نے اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے ساتھ مالی تعاون ختم کر دیا ہے۔ دونوں کے درمیان مختلف ترقیاتی اور مالی پروگراموں پر تعاون موجود ہے۔ تازہ فیصلہ ایک مخصوص تجارتی سہولت کی قیمت اور شرائط سے متعلق بتایا گیا ہے۔
حکومت کو رواں مالی سال میں اپنے بیرونی مالی اہداف پورے کرنے کے لیے متبادل ذرائع سے رقم کا انتظام کرنا ہوگا۔ اس عمل میں کم لاگت قرض، سرمایہ کاری، برآمدی آمدن اور ترسیلات زر بیرونی کھاتے کے دباؤ کو محدود کرنے کے لیے اہم رہیں گے، جبکہ نئی فنانسنگ کے حتمی حجم اور شرائط کا انحصار مارکیٹ اور مذاکرات پر ہوگا۔
