دنیا کے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینجز میں شامل بائنانس نے 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں کی چوری کے بعد صارفین کے لیے رقوم اور کرپٹو اثاثوں کی نکاسی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق چوری ہونے والے ٹوکنز کے تقریباً 95 فیصد حصے کے مساوی اثاثے اپنے مالی وسائل سے خرید کر پورے کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی کم لیکویڈیٹی والے اثاثوں کی فراہمی میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
بائنانس نے بتایا کہ بحالی کے پہلے مرحلے میں بٹ کوائن، ایتھر، ایکس آر پی اور ڈوج کوائن سمیت 15 کرپٹو اثاثوں کے withdrawals کھولے جائیں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ تقریباً 6 ارب ڈالر مالیت کے متبادل ٹوکنز خریدے گئے ہیں۔ بائنانس نے پہلے ہی وعدہ کیا تھا کہ صارفین پر مالی نقصان منتقل نہیں کیا جائے گا اور ہیک کے مالی اثرات کمپنی برداشت کرے گی۔
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے حملے کی ذمہ داری شمالی کوریا سے منسلک سرکاری حمایت یافتہ گروپ 'ٹریڈر ٹریٹر' پر عائد کی ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق متعلقہ عناصر چوری شدہ اثاثوں کو ایتھر میں تبدیل کرتے دیکھے گئے اور مزید منی لانڈرنگ کی کوششوں کا امکان ہے۔ شمالی کوریا طویل عرصے سے ریاستی سرپرستی میں سائبر چوری کے الزامات کی تردید کرتا آیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ واشنگٹن ابھی شمالی کوریا کے کردار کے بارے میں حتمی طور پر یقینی نہیں۔
بائنانس کے مطابق حملہ ایک پیچیدہ سکیورٹی خلاف ورزی تھی جس میں ایک متاثرہ لیپ ٹاپ اور ایسے نقصان دہ سافٹ ویئر کا استعمال شامل تھا جو اپنی سرگرمی کے شواہد مٹانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ بلاک چین تجزیاتی اداروں کے مطابق چوری کا بڑا حصہ تقریباً 20 منٹ میں منتقل کیا گیا۔ کمپنی اور صنعت کے دیگر فریق بعض متاثرہ اثاثوں کو منجمد کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
نقصان پورا کرنے کے لیے بائنانس نے اپنے سکیور ایسٹ فنڈ فار یوزرز، فیوچرز انشورنس فنڈ اور کارپوریٹ خزانے کے وسائل استعمال کرنے کی تفصیل دی ہے۔ کمپنی کے مطابق صارف تحفظ کے لیے قائم ریزرو کو بعد میں دوبارہ مطلوبہ سطح تک بھرنے کا ارادہ ہے۔
واقعہ کرپٹو صنعت میں تحویل، سائبر سکیورٹی اور مرکزی ایکسچینجز کے خطرات پر نئی بحث کا باعث بنا ہے۔ ایف بی آئی کی نسبت ایک سرکاری تحقیقاتی مؤقف ہے، جبکہ مکمل فوجداری ذمہ داری اور تکنیکی تفصیلات کی مزید تحقیقات جاری رہ سکتی ہیں۔

