اسلام آباد: قومی اسمبلی کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں، غیر مستحق افراد کو ادائیگیوں اور سرکاری ملازمین سے متعلق رقوم کے معاملات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ایوان میں پیش تفصیلات کے مطابق مختلف آڈٹ اور جانچ کے مراحل میں مجموعی طور پر 24 ارب روپے سے زائد مالیت کے معاملات کی نشاندہی ہوئی، تاہم ہر رقم کی نوعیت یکساں نہیں اور بعض کیسز ریکوری، محکمانہ کارروائی یا مزید جانچ کے مراحل سے متعلق ہیں۔

سرکاری جواب میں بتایا گیا کہ مستحق خاندانوں کے لیے مختص رقوم بعض ایسے افراد تک بھی پہنچیں جو پروگرام کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔ ان میں حاضر سروس یا سابق سرکاری ملازمین اور ان کے خاندانوں سے منسلک کیسز بھی شامل بتائے گئے۔ حکام نے ڈیٹا کی جانچ، نادرا سمیت مختلف سرکاری ریکارڈز سے تصدیق اور مستحقین کی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے اقدامات کا ذکر کیا ہے۔

بی آئی ایس پی پاکستان کا سب سے بڑا وفاقی سماجی تحفظ پروگرام ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے گھرانوں کو نقد امداد فراہم کی جاتی ہے۔ پروگرام کے بڑے حجم کی وجہ سے مستحقین کی درست شناخت، ادائیگی کے نظام کی نگرانی اور مالی شفافیت بنیادی انتظامی تقاضے ہیں۔ غلط ادائیگیوں سے نہ صرف سرکاری خزانے پر بوجھ پڑتا ہے بلکہ اصل مستحق خاندانوں کے حصے کے وسائل بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں فراہم کردہ معلومات میں مختلف بے ضابطگیوں کی نشاندہی کو حتمی فوجداری ذمہ داری کے مترادف قرار نہیں دیا گیا۔ کسی فرد یا اہلکار کے خلاف جرم ثابت ہونا متعلقہ تحقیقاتی اور عدالتی عمل سے مشروط ہے۔ اسی لیے آڈٹ اعتراض، غلط ادائیگی، محکمانہ خلاف ورزی اور ثابت شدہ بدعنوانی کے درمیان قانونی فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

حکومت اور بی آئی ایس پی انتظامیہ کے لیے اہم چیلنج یہ ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ڈیٹا پر مبنی اہلیت کے نظام کو اس انداز میں مضبوط کیا جائے کہ جعلی یا غیر مستحق اندراج کم ہوں اور حقیقی مستحقین کو امداد میں غیر ضروری رکاوٹ نہ آئے۔ پارلیمانی نگرانی کے ساتھ ریکوری کی پیش رفت اور ذمہ دار افراد کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی اس معاملے میں آئندہ توجہ کا مرکز رہے گی۔