لاہور: آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق آڈٹ رپورٹ 2024-25 میں مستحقین کی اہلیت، شناختی ریکارڈ اور ادائیگیوں کے نظام میں متعدد بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 12 ہزار 78 سرکاری ملازمین، پنشنرز یا ان کے شریک حیات کو مجموعی طور پر 51 کروڑ 57 لاکھ روپے سے زائد ادائیگیاں ہوئیں، حالانکہ دسمبر 2019 کے وفاقی کابینہ کے فیصلے کے تحت ایسے افراد پروگرام سے خارج کیے گئے تھے۔

آڈٹ میں 261 ایسے معاملات بھی رپورٹ کیے گئے جن میں مستحق یا ان کے شریک حیات کے بیرون ملک سفر کے ریکارڈ کے باوجود تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ روپے کی ادائیگیاں ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران بی آئی ایس پی کے 1 کروڑ 2 لاکھ فعال مستحق گھرانے تھے۔ آڈیٹرز نے inclusion error یعنی غیر مستحق افراد کے شامل ہونے کی شرح 6.8 فیصد بتائی، جو مقررہ 5 فیصد معیار سے زیادہ تھی، جبکہ exclusion error یعنی اہل افراد کے باہر رہ جانے کی شرح 13.27 فیصد ریکارڈ ہوئی، جو 10 فیصد معیار سے بلند تھی۔

سب سے بڑے اعتراضات مستحقین کے شناختی ریکارڈ سے متعلق ہیں۔ آڈٹ کے مطابق 5,598 معاملات میں ایک ہی شریک حیات کا شناختی کارڈ سات تک خواتین کے ریکارڈ سے منسلک پایا گیا، جن سے تقریباً 23 کروڑ 90 لاکھ روپے کی ادائیگیاں وابستہ تھیں۔ مزید 596,252 معاملات میں مستحق خواتین کے ریکارڈ میں شریک حیات کے شناختی کارڈ کی تفصیل موجود نہیں تھی، جن سے منسلک ادائیگیوں کی مالیت تقریباً 25.46 ارب روپے بتائی گئی۔ دونوں اقسام کے مجموعی 601,850 ریکارڈز میں 25.699 ارب روپے کی ادائیگیوں کی آزادانہ تصدیق کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ نے ان اعداد کو حتمی طور پر ثابت شدہ فراڈ قرار نہیں دیا بلکہ ریکارڈ اور کنٹرول کی ایسی خامیاں قرار دیا ہے جن کی وضاحت، تصدیق اور ذمہ داری کے تعین کی ضرورت ہے۔ آڈیٹرز نے نادرا سے شریک حیات کے رشتوں کی آزادانہ جانچ اور متعلقہ اداروں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ بہتر بنانے کی سفارش کی۔ 97,179 گھرانوں میں ایک ہی سربراہ کے لیے متعدد پراکسی مینز ٹیسٹ اسکورز کی نشاندہی بھی کی گئی، جن کے نتیجے میں 18,964 ممکنہ طور پر غیر اہل مستحقین کے اندراج اور 53 کروڑ روپے سے زائد ممکنہ غلط تخصیص کا سوال اٹھایا گیا۔

تعلیمی وظائف میں بھی بعض سرکاری امداد یافتہ اسکولوں کو دوہرے فوائد اور 278 سرکاری ملازمین کو بچوں کے بجائے طالب علم کے طور پر درج کیے جانے کی نشاندہی ہوئی۔ آڈٹ کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ بڑے سماجی تحفظ پروگرام میں مستحقین کی شناخت اور ادائیگیوں کے کنٹرول کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ کسی مخصوص فرد کے خلاف فوجداری ذمہ داری یا بدعنوانی کا حتمی تعین آڈٹ رپورٹ سے خودبخود نہیں ہوتا اور اس کے لیے متعلقہ اداروں کی جانچ اور قانونی کارروائی درکار ہوگی۔