سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین مذہب کے ایک مقدمے میں تقریباً 20 سال سے قید دو بھائیوں لیاقت علی اور عمر دراز کو بری کرتے ہوئے ان کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس شکیل احمد اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے لاہور ہائیکورٹ کے 17 ستمبر 2015 کے فیصلے کے خلاف دائر فوجداری اپیلوں کی سماعت کے بعد یہ فیصلہ دیا۔

دونوں بھائیوں کو جھنگ کی سیشن عدالت نے مارچ 2006 میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295-C کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ نے بعد میں ان کی اپیلیں مسترد کر کے سزا برقرار رکھی۔ سپریم کورٹ میں دفاع نے بنیادی طور پر ملزمان کی ذہنی حالت اور مبینہ واقعے کے وقت مجرمانہ ارادے کی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔

عدالت نے مختلف ادوار میں ہونے والے نفسیاتی معائنوں کا جائزہ لیا۔ 2007 کے ایک ابتدائی میڈیکل بورڈ نے دونوں کو ذہنی طور پر صحت مند قرار دیا تھا، تاہم 2023 میں آٹھ رکنی ماہر بورڈ نے دونوں میں بائی پولر ایفیکٹو ڈس آرڈر کے ساتھ نفسیاتی علامات کی تشخیص کی۔ ستمبر 2025 کے نو رکنی بورڈ نے بھی بائی پولر ڈس آرڈر کی موجودگی کی رائے دی اور بیماری کو ایسی دائمی کیفیت قرار دیا جو شدید مرحلے میں ادراک اور عمل کو سمجھنے کی صلاحیت متاثر کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سینئر ماہرین نفسیات پر مشتمل بعد کے خصوصی بورڈز کی متفقہ آرا نے ملزمان کی culpability کے بارے میں معقول شک پیدا کیا۔ عدالت نے اسی شک کا فائدہ دیتے ہوئے دونوں بھائیوں کو بری کیا اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کی انتظامیہ سے توقع ظاہر کی کہ ان کا علاج منقطع نہیں ہوگا۔

جسٹس شکیل احمد نے الگ مگر موافق نوٹ میں واضح کیا کہ محض نفسیاتی تشخیص خودکار طور پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 84 کے تحت قانونی دیوانگی ثابت نہیں کرتی۔ ان کے مطابق اصل قانونی سوال یہ ہوتا ہے کہ مبینہ جرم کے وقت ملزم اپنے عمل کی نوعیت یا اس کے غلط اور خلاف قانون ہونے کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا تھا یا نہیں۔ تاہم دستیاب طبی رپورٹس اور مقدمے کے حالات نے اس کیس میں معقول شک پیدا کیا، جس کی بنیاد پر بریت کا نتیجہ برقرار رکھا گیا۔