اسلام آباد: سپریم کورٹ نے توہین مذہب کے ایک مقدمے میں تقریباً دو دہائیاں قید کاٹنے والے مسیحی بہن بھائی قاسم مسیح اور ثنا مسیح کو بری کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے دستیاب شواہد اور مقدمے کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزام کو قانون کے مطلوبہ معیار کے مطابق شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

یہ مقدمہ لاہور میں درج ہوا تھا اور دونوں بہن بھائی طویل عرصے سے قید میں تھے۔ ماتحت عدالت نے انہیں تعزیرات پاکستان کی توہین مذہب سے متعلق دفعات کے تحت سزا سنائی تھی، جس کے خلاف اپیلوں کا سلسلہ اعلیٰ عدالتوں تک پہنچا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دونوں کی سزائیں ختم ہو گئیں اور عدالت نے انہیں بری کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی فیصلے میں فوجداری مقدمات کے بنیادی اصول کو اہمیت دی گئی کہ الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری استغاثہ پر ہوتی ہے اور کسی معقول شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔ عدالت نے گواہی، مقدمے کے اندراج، مبینہ مواد اور دیگر متعلقہ شواہد میں موجود کمزوریوں کا جائزہ لیا۔ فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ عدالت نے الزام کو ثابت شدہ جرم قرار نہیں دیا؛ یہ بریت ثبوت کے قانونی معیار پورا نہ ہونے کی بنیاد پر ہوئی۔

توہین مذہب کے مقدمات پاکستان میں قانونی اور سماجی طور پر انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے مقدمات میں عدالتیں ماضی میں بھی تفتیش، گواہی اور شواہد کے معیار پر سخت جانچ کی ضرورت پر زور دیتی رہی ہیں، کیونکہ الزام کی نوعیت سنگین اور ممکنہ سزا انتہائی سخت ہو سکتی ہے۔ اس مقدمے میں بھی سپریم کورٹ نے اسی اصول کے تحت ریکارڈ کا جائزہ لیا اور استغاثہ کی خامیوں کو فیصلہ کن قرار دیا۔

بریت کے حکم کے بعد اگر دونوں بہن بھائی کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو ان کی رہائی کا قانونی راستہ کھل گیا ہے۔ فیصلے کی تفصیلی قانونی اہمیت مکمل تحریری متن اور اس میں بیان کردہ نظائر سے مزید واضح ہوگی۔ مقدمے سے متعلق کسی بھی سابق الزام کو اب عدالتی طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے سزا ختم کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو بری کر دیا ہے۔