اسلام آباد میں پاکستان انفارمیشن کمیشن نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو ہدایت کی ہے کہ پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں اور ان کی ذیلی کمیٹیوں کے مالی اخراجات سے متعلق زیر التوا معلومات 10 دن کے اندر فراہم کی جائیں۔ کمیشن کا حکم صحافی سعدیہ مظہر کی اپیل پر جاری ہوا، جنہوں نے حقِ رسائی معلومات ایکٹ 2017 کے تحت جنوری 2025 سے پارلیمانی کمیٹیوں کی سرگرمیوں اور مالی اخراجات کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

درخواست میں قائمہ کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں کی فہرست، منعقدہ اجلاسوں کی تعداد، ان اجلاسوں پر ہونے والے مجموعی اخراجات، ارکان اور چیئرپرسنز کو ادا کیے گئے سفری الاؤنسز، مراعات اور دیگر ادائیگیوں کی مکمل تفصیل مانگی گئی تھی۔ درخواست گزار کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے ابتدائی جواب تسلی بخش نہیں تھا، جس کے بعد انہوں نے 5 جولائی کو انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا۔

کارروائی کے دوران قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے کچھ جوابات جمع کرائے، تاہم درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ قائمہ کمیٹیوں کی فہرست سے متعلق پہلے سوال کے علاوہ باقی 13 سوالات کا مطلوبہ اور مخصوص جواب فراہم نہیں کیا گیا۔ کمیشن نے سیکرٹریٹ کے جواب اور قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر دستیاب مواد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ اگرچہ کافی پارلیمانی معلومات آن لائن موجود ہیں، لیکن وہ درخواست میں اٹھائے گئے مخصوص سوالات کو پورا نہیں کرتیں۔

انفارمیشن کمشنر اعجاز حسن اعوان اور چیف انفارمیشن کمشنر شعیب احمد صدیقی کے جاری کردہ حکم میں کہا گیا کہ سرکاری اداروں پر لازم ہے کہ وہ حقِ معلومات کے قانون کے تحت شہریوں کی درخواستوں کے واضح، مخصوص اور موضوع سے متعلق جواب دیں، چاہے کچھ عمومی معلومات پہلے ہی ویب سائٹ پر دستیاب ہوں۔ اسی بنیاد پر قومی اسمبلی سیکرٹری کو سوال نمبر 2 سے 14 تک مکمل جواب 10 دن میں فراہم کرنے کا حکم دیا گیا۔

کمیشن نے اپنے حکم پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے 19 نومبر کو کارروائی مقرر کی ہے۔ حقِ رسائی معلومات ایکٹ 2017 شہریوں کو وفاقی سرکاری اداروں سے قابلِ افشا ریکارڈ مانگنے کا قانونی حق دیتا ہے۔ موجودہ حکم اخراجات کی کسی بے ضابطگی کا فیصلہ نہیں بلکہ معلومات کے افشا سے متعلق انتظامی و قانونی ہدایت ہے؛ اصل مالی تفصیلات قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جواب فراہم کیے جانے کے بعد سامنے آئیں گی۔