سنگاپور/لندن: مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی کے نئے مرحلے اور خلیجی توانائی و بحری راستوں پر بڑھتے خطرات کے باعث بدھ کو برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی، جو تقریباً چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔
روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل نے کاروبار کے دوران 100.19 ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھوا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 94 ڈالر سے اوپر گیا۔ قیمتوں میں تیزی ایران اور امریکا کے درمیان حملوں کے تبادلے، سعودی عرب میں حوثی حملوں اور آبنائے ہرمز کے قریب جہاز رانی کے خطرات کے بعد دیکھی گئی۔
امریکا نے پانچ ایرانی آئل ٹینکر تباہ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ ایران نے اردن میں امریکی فوج کے زیر استعمال اڈے اور ہرمز کے قریب جہازوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے۔ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی شہروں اور توانائی سے متعلق مقامات پر حملوں نے بھی مارکیٹ میں رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھائے ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے وہاں کسی بھی بڑے تعطل کا اثر خام تیل، ایندھن، شپنگ اور انشورنس کی لاگت پر پڑ سکتا ہے۔ متبادل راستے موجود ہونے کے باوجود خلیجی پیداوار کی مکمل ترسیل ان راستوں سے منتقل کرنا ممکن نہیں، جس کے باعث مارکیٹ جغرافیائی سیاسی خطرے کی اضافی قیمت شامل کر رہی ہے۔
بعض بڑے مالیاتی اداروں نے حالیہ کشیدگی کے بعد خام تیل کے قیمت اندازے بڑھائے ہیں۔ دوسری طرف امریکا، کینیڈا اور گیانا سمیت غیر اوپیک ممالک کی پیداوار میں اضافہ عالمی رسد کو کچھ سہارا دے رہا ہے۔ اس کے باوجود مسلسل حملے اور شپنگ خطرات فوری مدت میں قیمتوں پر اوپر کی جانب دباؤ برقرار رکھ سکتے ہیں۔
تیل کی بلند قیمتیں صرف توانائی مارکیٹ تک محدود اثر نہیں رکھتیں۔ مہنگا خام تیل ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعتی پیداوار اور اشیائے خورونوش کی لاگت بڑھا سکتا ہے، جس سے مرکزی بینکوں کے لیے افراط زر پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔ موجودہ قیمتیں تیزی سے بدلتی جنگی صورتحال سے متاثر ہیں، اس لیے آنے والے دنوں میں کسی بڑی فوجی یا سفارتی پیش رفت سے مارکیٹ میں نمایاں اتار چڑھاؤ ممکن ہے۔




