11 ستمبر 2026 کو برکس ممالک کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان نے عالمی ترقیاتی اور مالیاتی اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ رائٹرز کے مطابق مشترکہ بیان میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک جیسے اداروں کو ابھرتی ہوئی معیشتوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے مطابق زیادہ نمائندہ، شفاف اور جواب دہ بنانے پر زور دیا گیا۔

بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب برکس رہنماؤں کے اجلاس کی تیاریاں جاری تھیں۔ رائٹرز کے مطابق رکن ممالک نے تجارت اور مالیات سے متعلق یکطرفہ اقدامات، بالخصوص ٹیرف جیسے اقدامات، پر بھی تشویش ظاہر کی اور انہیں عالمی تجارتی قواعد کے تناظر میں مسئلہ قرار دیا۔

برکس کے مالیاتی تعاون میں سرحد پار ادائیگیوں کو آسان، کم لاگت اور زیادہ محفوظ بنانے کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ رپورٹ کے مطابق ادائیگی کے نظاموں کے باہمی رابطے اور ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع کے استعمال پر کام آگے بڑھانے کی بات کی گئی۔ ان تجاویز کے عملی نفاذ کے لیے رکن ممالک کے درمیان تکنیکی، قانونی اور مالیاتی ہم آہنگی درکار ہوگی۔

عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ نیا نہیں، لیکن برکس کی جانب سے اسے دوبارہ اجاگر کرنا اس گروپ کے بڑھتے ہوئے اقتصادی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ رکن ممالک کی معیشتیں اور سیاسی مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے کسی مشترکہ منصوبے پر مکمل عملدرآمد کے لیے اتفاق رائے ضروری ہوگا۔

رائٹرز کے مطابق مشترکہ موقف کا بنیادی نکتہ عالمی مالیاتی نظام میں نمائندگی اور فیصلہ سازی کے ڈھانچے کو بدلتی ہوئی عالمی معیشت کے مطابق بنانا ہے۔ تاہم بیان خود کسی فوری ادارہ جاتی تبدیلی کی ضمانت نہیں دیتا؛ آئی ایم ایف، عالمی بینک یا دیگر اداروں میں اصلاحات کے لیے وسیع بین الاقوامی مذاکرات اور رکن ممالک کی منظوری درکار ہوتی ہے۔