12 ستمبر 2026 کو رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب نے ایک فضائی حملے کے بعد اپنی اہم مشرقی۔مغربی تیل پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق پائپ لائن کو احتیاطی تدبیر کے طور پر بند کیا گیا، جبکہ سعودی عرب اور عراق دونوں نے حملے کے مبینہ آغاز کو عراق سے جوڑا، جہاں ایران نواز ملیشیاؤں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔

رائٹرز کے مطابق تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کو خلیج کے اہم بحری راستوں سے ہٹ کر تیل کی ترسیل کا ایک متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔ رپورٹ میں شپ ٹریکنگ کمپنیوں اور تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا گیا کہ حالیہ مہینوں میں اس کے ذریعے روزانہ تقریباً 40 سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جا رہا تھا۔

عراق نے حملے کے بعد تحقیقات اور ذمہ داروں کی تلاش سے متعلق اقدامات کی اطلاع دی۔ رائٹرز کے مطابق ایک مقامی فوجی کمانڈر کو عہدے سے ہٹایا گیا اور ایران کے ساتھ ایک اہم سرحدی گزرگاہ کو احتیاطی طور پر بند کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔ ان تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق کے لیے متعلقہ ممالک کے مزید سرکاری بیانات اہم ہوں گے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی پہلے ہی توانائی کی ترسیل پر اثر ڈال رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ایک اسٹریٹجک جزیرے پر قبضے کی اطلاعات کے ساتھ اپنی سرگرمیاں بڑھائی ہیں، جس سے اہم بحری راستوں کی سلامتی کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے۔

پائپ لائن کی عارضی بندش اور علاقائی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی کے بارے میں تشویش بڑھا دی ہے۔ تاہم اس واقعے کے طویل مدتی اثرات کا انحصار پائپ لائن کی بحالی، حملے کی تحقیقات اور خطے میں فوجی و سفارتی صورتحال پر ہوگا۔ موجودہ طور پر تصدیق شدہ بات یہ ہے کہ سعودی وزارت توانائی کے مطابق پائپ لائن احتیاطی طور پر بند کی گئی؛ حملے کی مکمل ذمہ داری اور آئندہ اقدامات کے بارے میں تحقیقات جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔