اقوام متحدہ: پاکستان نے ایران کے جوہری مسئلے اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سفارتی عمل کو دوبارہ مؤثر بنانے اور تمام تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی اے پی پی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حالیہ تشدد کو خطے میں امن کے امکانات کے لیے تشویش ناک قرار دیا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ مناسب سفارتی گنجائش فراہم کی جائے تو بات چیت اب بھی نتائج دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کی حمایت اور خطے میں وسیع تر استحکام کے لیے سفارتی رابطوں کی کوشش کرتا رہا ہے۔ انہوں نے تمام زیر التوا معاملات کو پرامن ذرائع، مسلسل مکالمے اور سفارتی engagement کے ذریعے حل کرنے کی پاکستانی پالیسی دہرائی۔
سلامتی کونسل کا اجلاس فرانس کی صدارت میں ایران سے متعلق عدم پھیلاؤ کے ایجنڈے اور قرارداد 1737 سے منسلک پابندیوں کے معاملے پر ہوا۔ رپورٹ کے مطابق 2015 کے جوہری معاہدے، یعنی مشترکہ جامع لائحہ عمل، کے بعد سابق پابندیوں کا نظام معطل ہوا تھا، تاہم اگست 2025 میں فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے معاہدے کے 'اسنیپ بیک' طریقہ کار کو فعال کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کا عمل شروع کیا۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ نئے تشدد اور سفارت کاری میں تعطل نے ایران کے جوہری معاملے پر سلامتی کونسل کی غور و فکر کو بھی متاثر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان قیادت کی سطح پر مسلسل رابطوں اور خطے و بیرونِ خطہ شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے مکالمے کے لیے جگہ پیدا کرنے، پیغامات کی ترسیل میں سہولت دینے اور بامعنی مذاکرات کے حالات بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
پاکستانی نمائندے نے سلامتی کونسل کے ارکان پر بھی زور دیا کہ اختلافات کے باوجود بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مشترکہ ذمہ داری ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کونسل اور اس کے ذیلی اداروں کے کام پر رکن ممالک کے اختلافات اثر انداز ہوئے ہیں، اس لیے مشترکہ مقصد اور اتحاد ضروری ہے۔
یہ بیان کسی نئے معاہدے یا جنگ بندی کے اعلان کے بجائے پاکستان کے سفارتی مؤقف کی وضاحت ہے۔ اسلام آباد نے اجلاس میں فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل کو ترجیح دینے کی بات کی، جبکہ خطے کی موجودہ صورتحال میں کسی حتمی پیش رفت کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔




