یریوان: پاکستان کے آرمینیا میں پہلے سفیر شفقت علی خان نے آرمینیائی صدر واہگن خاچاطوریان کو اپنی اسناد سفارت پیش کر دی ہیں، جس کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ قائم ہونے والے سفارتی تعلقات نے عملی طور پر ایک نئے مرحلے میں قدم رکھا ہے۔ تقریب صدارتی محل میں ہوئی، جہاں آرمینیائی صدر نے پاکستانی سفیر کا خیر مقدم کیا اور ان کی تعیناتی پر مبارک باد دی۔
ملاقات کے دوران صدر خاچاطوریان نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید آگے بڑھانے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔ سفیر شفقت علی خان نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نیک خواہشات پہنچائیں اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ پاکستان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
دونوں جانب سے تجارت اور سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت، عوامی روابط اور دیگر معاشی شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بات ہوئی۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد اب عملی تعاون کے ایسے راستے تلاش کیے جائیں جن سے سرکاری سطح کے روابط کے ساتھ کاروباری اور سماجی روابط بھی بڑھ سکیں۔
اسناد سفارت پیش کرنے سے قبل شفقت علی خان نے آرمینیا کے وزیر خارجہ و بین الاقوامی تجارت آرارات مرزویان سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دوطرفہ ایجنڈے کا جائزہ لیا گیا، تعاون بڑھانے کے مختلف امکانات زیر بحث آئے اور علاقائی و بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی سفیر نے آرمینیائی نائب وزیر خارجہ مناتساکان سفاریان سے بھی ملاقات کی اور اپنی اسناد سفارت کی نقل پیش کی۔
آرمینیائی حکام نے پاکستان اور آرمینیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو دونوں ملکوں کی قیادت کا اہم پالیسی فیصلہ قرار دیا۔ ملاقاتوں میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ دوطرفہ سطح کے ساتھ کثیرالجہتی فورمز پر بھی تعاون کو وسعت دی جا سکتی ہے۔
پاکستان اور آرمینیا نے اگست 2025 میں باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ اس سے پہلے پاکستان طویل عرصے تک آرمینیا کی خودمختاری کو باضابطہ طور پر تسلیم نہ کرنے والا واحد اقوام متحدہ کا رکن ملک تھا، جس کی ایک بڑی وجہ نگورنو کاراباخ تنازع میں آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کی سیاسی یکجہتی تھی۔ سفارتی تعلقات کے قیام نے اس تاریخی پوزیشن میں اہم تبدیلی کی نمائندگی کی۔
شفقت علی خان متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر بھی ہیں اور آرمینیا کے لیے غیر مقیم سفیر کی ذمہ داری انجام دیں گے۔ یریوان میں ان کی حالیہ ملاقاتیں اس بات کی علامت ہیں کہ دونوں ممالک اب تعلقات کو رسمی سطح سے آگے لے جا کر تجارت، سرمایہ کاری اور دیگر عملی شعبوں میں پیش رفت کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔




