پاکستان کے آرمینیا کے لیے پہلے سفیر شفقت علی خان نے 12 ستمبر 2026 کو یریوان میں صدر واہگن خاچاتوریان کو اپنی اسنادِ سفارت پیش کر دیں۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق تقریب صدارتی محل میں ہوئی جہاں آرمینیائی صدر نے پاکستانی سفیر کا خیرمقدم کیا، ان کی تقرری پر مبارک باد دی اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔

شفقت علی خان نے صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کی جانب سے نیک تمنائیں پہنچائیں اور دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں تجارت و سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت، عوامی روابط اور دیگر اقتصادی شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بات ہوئی۔ دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ نئے سفارتی تعلقات کو عملی اقتصادی اور عوامی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے متعدد شعبوں میں گنجائش موجود ہے۔

یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ پاکستان اور آرمینیا نے 2025 میں باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ شفقت علی خان کی اسناد پیش کرنے کی تقریب ان تعلقات کے بعد سفیر کی سطح پر پاکستان کی پہلی باضابطہ تعیناتی کی تکمیل ہے۔ سرکاری بیان میں اسے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔

یریوان کے دورے کے دوران پاکستانی سفیر نے آرمینیا کے وزیر خارجہ و بین الاقوامی تجارت ارارات مرزویان سے بھی ملاقات کی۔ دونوں نے دوطرفہ ایجنڈے کا جائزہ لیا، تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ اس کے علاوہ شفقت علی خان نے نائب وزیر خارجہ مناتساکان سفاریان کو اپنی اسناد کی نقل بھی پیش کی۔ آرمینیائی نائب وزیر نے سفارتی تعلقات کے قیام کو دونوں ملکوں کی قیادت کا اہم پالیسی فیصلہ قرار دیا۔

اعلامیے کے مطابق فریقین نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی فورمز میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔ پاکستان کے لیے یہ سفارتی توسیع قفقاز کے خطے میں نئی سیاسی اور اقتصادی روابط کی بنیاد مضبوط کرنے کی کوشش کا حصہ سمجھی جا سکتی ہے، تاہم سرکاری بیان میں کسی نئے معاہدے یا مخصوص تجارتی ہدف کا اعلان نہیں کیا گیا۔

شفقت علی خان متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں اور آرمینیا کے لیے غیر مقیم سفیر کے طور پر کام کریں گے۔ اس لیے ان کی نئی ذمہ داری پاکستان اور آرمینیا کے تعلقات کے ادارہ جاتی آغاز کو باضابطہ سفارتی نمائندگی سے جوڑتی ہے، جبکہ مستقبل کی پیش رفت کا انحصار دونوں ملکوں کے درمیان طے ہونے والے عملی تعاون پر ہوگا۔