نئی دہلی: برکس ممالک نے اپنے سالانہ سربراہ اجلاس کے پہلے روز متفقہ طور پر مشترکہ “نئی دہلی اعلامیہ” منظور کر لیا ہے، جس میں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کی اپیل کی گئی ہے۔ اعلامیے میں بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے مکالمے، مشاورت اور سفارتکاری کو ترجیح دینے پر بھی زور دیا گیا۔
برکس میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ اس بار مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کو خاص اہمیت حاصل ہوئی کیونکہ ایران اور امریکا کے اتحادی متحدہ عرب امارات دونوں اسی بلاک کے رکن ہیں، جبکہ خطے میں جاری جنگ نے دونوں ممالک کے تعلقات اور خلیجی سلامتی کے ماحول کو متاثر کیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی عالمی امن، تجارت اور توانائی کی رسد کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے ایسی کارروائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے جو صورتحال کو مزید خراب کریں۔ رکن ممالک نے قومی نقطہ ہائے نظر کا احترام کرنے والے کثیرالجہتی طریقہ کار کی حمایت کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اختلافات کو طاقت کے بجائے سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔
برکس رہنماؤں نے عالمی تجارت میں بڑھتے ہوئے یکطرفہ ٹیرف اور نان ٹیرف اقدامات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور روس پر امریکی پابندیاں، مشرق وسطیٰ کی جنگ اور توانائی کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کئی برکس معیشتوں پر براہ راست اثر ڈال رہے ہیں۔ اعلامیے نے تجارت میں رکاوٹ بننے والے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کی، تاہم کسی مخصوص ملک کو ہدف بنا کر نام نہیں لیا گیا۔
نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس کا ایک بڑا امتحان یہی تھا کہ مختلف جغرافیائی اور سیاسی مفادات رکھنے والے ممالک ایک مشترکہ متن پر متفق ہو سکیں۔ ایران اور متحدہ عرب امارات کی شمولیت کے باوجود اتفاق رائے حاصل ہونا میزبان بھارت کے لیے سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
برکس کی توسیع کے بعد اس گروپ کی آبادی اور عالمی معیشت میں نمائندگی مزید بڑھی ہے، مگر داخلی اختلافات بھی زیادہ نمایاں ہوئے ہیں۔ مشترکہ اعلامیہ ان اختلافات کو ختم نہیں کرتا، تاہم یہ ظاہر کرتا ہے کہ رکن ممالک کم از کم سفارتکاری، تجارت اور علاقائی استحکام کے بنیادی اصولوں پر ایک مشترکہ سیاسی زبان برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔




