ریاض/دبئی: سعودی عرب نے اپنی اہم ایسٹ ویسٹ تیل پائپ لائن پر فضائی حملے کے بعد اسے عارضی طور پر بند کر دیا ہے، جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی توانائی منڈی میں مزید غیر یقینی پیدا ہو گئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق پائپ لائن کو احتیاطی اقدام کے طور پر بند کیا گیا جبکہ متاثرہ تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی تیل پیدا کرنے والے علاقوں کو بحیرہ احمر کے ساحل سے جوڑتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں جنگی حالات اور بحری آمدورفت کی رکاوٹوں کے باعث گزشتہ کئی مہینوں میں یہ راستہ سعودی خام تیل کی برآمدات کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق پائپ لائن سے روزانہ تقریباً 40 سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل ہو رہا تھا، جو عالمی سپلائی کا تقریباً 4 سے 5 فیصد بنتا ہے۔

سعودی عرب اور عراق کے حکام نے کہا ہے کہ حملہ عراق کی سمت سے آیا۔ بغداد نے واقعے کے بعد متعلقہ علاقے کے ایک فوجی کمانڈر کو برطرف کیا اور بعض سکیورٹی اقدامات کیے۔ تاہم حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔ سعودی وزارت خارجہ نے حملے کے نتیجے میں کچھ افراد کے زخمی ہونے اور تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی، مگر برآمدات پر مکمل اثرات کی تفصیل فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران سے منسلک حوثی فورسز یمن کے بحیرہ احمر ساحل پر اپنی پیش قدمی بڑھا رہی ہیں اور باب المندب کے قریب اہم مقامات پر کنٹرول کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ سعودی عرب کے لیے یہ صورتحال دو بڑے سمندری راستوں، آبنائے ہرمز اور باب المندب، دونوں کے گرد خطرات بڑھا رہی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے جازان کے علاقے میں ایک الگ حملے میں دو افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔

تیل کی قیمتیں پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی جنگ، ٹینکرز پر حملوں اور جہاز رانی کے بڑھتے اخراجات کے باعث بلند سطح پر ہیں۔ ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی بندش اگر طویل ہوئی تو اس سے سعودی برآمدی صلاحیت اور عالمی منڈی میں دستیاب خام تیل پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ البتہ سعودی حکام نے بندش کو عارضی اور احتیاطی قرار دیا ہے، اس لیے حقیقی تجارتی اثر کا دارومدار مرمت اور دوبارہ آپریشن شروع ہونے کے وقت پر ہوگا۔

خطے میں بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں توانائی تنصیبات اور بحری راستوں کی سلامتی اب عالمی تیل منڈی کے لیے مرکزی خطرہ بن چکی ہے۔ کسی بھی مزید بڑے حملے یا طویل بندش سے قیمتوں اور سپلائی چین پر فوری اثر پڑنے کا امکان ہے۔