پاکستان کے آرمینیا کے لیے پہلے سفیر شفقت علی خان نے یریوان کے صدارتی محل میں صدر واہان خاچاتوریان کو اپنی اسنادِ سفارت پیش کر دی ہیں۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان 2025 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد پہلا باضابطہ سفیر سطح کا مرحلہ ہے اور پاکستان آرمینیا تعلقات میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
پاکستانی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق آرمینیائی صدر نے شفقت علی خان کو تقرری پر مبارک باد دی اور ان کی سفارتی ذمہ داریوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ صدر خاچاتوریان نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید آگے بڑھانے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے حمایت کا عندیہ بھی دیا۔
سفیر شفقت علی خان نے پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کی جانب سے آرمینیائی صدر کو خیرسگالی کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ پاکستان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت، عوامی روابط اور دیگر اقتصادی شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
شفقت علی خان آرمینیا میں غیر مقیم سفیر کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیں گے اور ان کی رہائش ابوظبی میں ہے، جہاں وہ پاکستان کے سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے آرمینیا کے نائب وزیر خارجہ مناتساکان سفاریان کو اسناد کی نقل پیش کی تھی اور آرمینیائی وزیر خارجہ و بین الاقوامی تجارت آرارات میرزویان سے بھی ملاقات کی۔
آرمینیائی وزارت خارجہ کے مطابق ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ ایجنڈا آگے بڑھانے، سیاسی آمادگی کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے اور باہمی و کثیرالجہتی فورمز پر رابطہ بڑھانے پر بات ہوئی۔ فریقین نے ایک دوطرفہ قانونی و معاہداتی فریم ورک بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان اور آرمینیا کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام 2025 میں ہوا تھا، جسے دونوں حکومتوں نے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں پر مبنی اہم پالیسی فیصلہ قرار دیا تھا۔ پہلی سفیر سطح کی تقرری کے بعد اب توجہ اس بات پر ہو گی کہ سیاسی تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافتی تبادلوں اور عوامی روابط میں ٹھوس تعاون میں کیسے تبدیل کیا جاتا ہے۔
یہ تقرری فوری طور پر کسی مخصوص تجارتی یا سیاسی معاہدے کا اعلان نہیں ہے، بلکہ باضابطہ سفارتی نمائندگی کی توسیع ہے۔ دونوں ممالک کی سرکاری معلومات کے مطابق اگلا مرحلہ ادارہ جاتی روابط، قانونی بنیاد اور قابلِ عمل تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی ہے۔




