بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے صوبائی اسمبلی میں کہا ہے کہ معدنیات، کان کنی اور محکمہ جنگلات کو مختص زمین کے بارے میں اپوزیشن کے تحفظات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے ارکان اسمبلی کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت متعلقہ معاملات میں ان کی آرا سنے گی اور اگلے ہفتے خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

ڈان کی 11 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق اسمبلی اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل پارٹی کے رکن ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے گوادر میں مقامی شہریوں کے زمین پر قانونی مالکانہ دستاویزات نہ ہونے کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے مری آباد علاقے میں بھی بعض باشندوں کو اسی نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ متعلقہ معاملات بورڈ آف ریونیو کے سامنے رکھے جائیں تاکہ انہیں قواعد کے مطابق دیکھا جاسکے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مقامی لوگوں کی زمین محکمہ جنگلات کو کیوں مختص کی گئی اور کیا ان علاقوں میں نایاب معدنیات کی موجودگی کا معاملہ زیر بحث ہے۔ یہ اسمبلی رکن کی جانب سے اٹھایا گیا سوال تھا، کسی معدنی ذخیرے کی دریافت یا زمین کی غیرقانونی منتقلی کا ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔ وزیراعلیٰ نے جواب دیا کہ جنگلات کے محکمے کے لیے اراضی کی تخصیص پرانی ہے اور اس کی وجوہات اور پس منظر سے ارکان اسمبلی کو آگاہ کیا جائے گا۔

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ صوبے میں طویل عرصے کے بعد زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل دینے پر کام ہورہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت اپوزیشن کو اراضی کے انتظام اور محکموں کے درمیان تقسیم سے متعلق جامع بریفنگ دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات اور جنگلات کے شعبوں میں فیصلوں پر مشاورت یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

اجلاس میں مذہبی مدارس کی رجسٹریشن کا مسئلہ بھی اٹھا۔ اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین نے چھبیسویں آئینی ترمیم کے سلسلے میں دی گئی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مدارس سیل کیے جانے کی شکایت کی، جبکہ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما صادق عمرانی نے مجوزہ بل کا مسودہ فراہم کرنے کو کہا تاکہ پارٹی قیادت کی رہنمائی حاصل کی جاسکے۔

یہ بحث صوبے میں اراضی کے حقوق، قدرتی وسائل کے انتظام اور پارلیمانی نگرانی کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ کی یقین دہانی ابھی آئندہ بریفنگ اور مشاورت سے متعلق ہے؛ اجلاس میں کسی نئے قانونی فیصلے، زمین کی واپسی یا معدنی لائسنس کی تبدیلی کی تصدیق نہیں ہوئی۔