گلگت بلتستان پولیس نے علاقے میں مقیم اور کام کرنے والے غیر ملکی شہریوں، بالخصوص چینی باشندوں، کی حفاظت کے لیے موجودہ انتظامات مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ گلگت میں سینٹرل پولیس آفس میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس کی صدارت انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے کی۔ اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں، نجی کاروبار اور معدنیات کے شعبے سے وابستہ غیر ملکیوں کے لیے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
ڈان کے مطابق اجلاس میں صرف چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر نہیں بلکہ ان سرگرمیوں پر بھی توجہ دی گئی جو سی پیک سے باہر جاری ہیں۔ ان میں نجی کان کنی، تجارتی کام اور مختلف اضلاع میں غیر ملکی شہریوں کی رہائش شامل ہے۔ پولیس کے متعلقہ یونٹوں نے تعینات نفری، چیک پوسٹوں اور اہم داخلی راستوں پر جاری اقدامات کی صورتحال پیش کی۔
پولیس سربراہ نے گلگت، اسکردو، دیامر اور دیگر علاقوں میں چینی شہریوں کی نقل و حرکت کے لیے پیشگی اطلاع، شناخت کی تصدیق اور اداروں کے درمیان رابطہ بڑھانے کی ہدایت کی۔ اس کے ساتھ تمام اضلاع کو خطرات کا نئے سرے سے تخمینہ لگانے، سکیورٹی ضروریات کی نشاندہی کرنے اور ممکنہ کمزوریوں کو مقررہ مدت میں دور کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
اجلاس میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کی جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل درآمد، رہائشی مقامات کے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ کی دوبارہ پڑتال اور منظور شدہ جگہوں کے حفاظتی آڈٹ کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ متعلقہ پولیس حکام کو مکمل ضلعی ریکارڈ برقرار رکھنے اور قانونی تقاضوں، بشمول ڈرائیونگ لائسنس اور اجازت ناموں کی شرائط، کی نگرانی کرنے کی ہدایت دی گئی۔ رات کے وقت نقل و حرکت کو بھی خصوصی توجہ کے نکات میں شامل کیا گیا۔
آئی جی پولیس نے خبردار کیا کہ غیر ملکی شہریوں، خاص طور پر چینی باشندوں، کی سلامتی کے معاملے میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ رپورٹ میں کسی نئے حملے یا مخصوص فوری خطرے کی تصدیق نہیں کی گئی؛ یہ خبر پولیس کے حفاظتی انتظامات کی نظرثانی اور نئی ہدایات سے متعلق ہے۔ اب ان فیصلوں کا عملی نفاذ ضلعی پولیس اور متعلقہ حفاظتی اداروں کی ذمہ داری ہوگا۔
