جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے معاملے میں حکومت سے واضح یقین دہانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بغیر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کو مطلوبہ ریلیف نہ ملا تو جماعت اسلامی 12 اکتوبر کے بعد اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کی تاریخ کا اعلان کرسکتی ہے۔

ڈان کی 11 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق حافظ نعیم نے لاہور میں منصورہ کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزرا کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت لیوی ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں وزیراعظم کے ساتھ ملاقات محض رسمی کارروائی ہوگی اور جماعت اسلامی اپنی بنیادی مانگ سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے احتجاجی مارچ ملتوی کرنے کے لیے جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس مقصد کے لیے جماعت کے نائب امیر لیاقت بلوچ تک پیغام پہنچایا تھا۔ تاہم جماعت کے سربراہ نے کہا کہ بات چیت اس وقت معنی خیز ہوگی جب حکومت لیوی کے خاتمے کے بارے میں پہلے واضح مؤقف اختیار کرے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے صارفین کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حقیقی ریلیف دینے کا مطالبہ دہرایا۔ انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے ایشیائی خریداروں کے لیے تیل کی قیمت میں مبینہ پانچ ڈالر فی بیرل کمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس کا فائدہ عوام تک منتقل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس بین الاقوامی رعایت کا ذکر ان کے بیان کے طور پر سامنے آیا ہے، اسے پاکستان کے لیے طے شدہ یا وصول شدہ رعایت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔

جماعت اسلامی کے سربراہ نے بتایا کہ پارٹی لیوی کے خلاف 42 روز تک دھرنے دے چکی ہے اور ملک بھر میں عوامی اجتماعات اور دستخطی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے تقاضوں کا حوالہ دینے پر تنقید بھی کی۔ ان کے مطابق حکومتی اخراجات پر اسی نوعیت کی سختی دکھائی جانی چاہیے جس کا بوجھ شہریوں پر ڈالنے کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے پنجاب میں تعلیم، زراعت اور مہنگی کھاد کے مسائل بھی اٹھائے، تاہم اسکولوں کی فروخت اور زرعی قیمتوں سے متعلق اعدادوشمار ان کے سیاسی دعوؤں کی حیثیت رکھتے ہیں اور متعلقہ حکومتی ریکارڈ کے بغیر ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

فی الحال حکومت کی طرف سے لیوی ختم کرنے کا کوئی تصدیق شدہ اعلان اس رپورٹ میں موجود نہیں، اور نہ ہی اسلام آباد مارچ کی حتمی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ یہ خبر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان جاری اختلاف اور آئندہ ممکنہ مذاکرات یا احتجاج کے بارے میں پارٹی سربراہ کے بیان پر مبنی ہے۔