وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شمالی ڈیرہ بگٹی کے دورے کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں اب کوئی نو گو ایریا موجود نہیں اور حکومت دور دراز علاقوں تک انتظامی رسائی اور ترقیاتی سرگرمیاں بڑھا رہی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سلامتی، نقل و حرکت اور ریاستی عمل داری کے مسائل مسلسل سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع ہیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ نے شمالی ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں کھلی کچہری سے خطاب کیا اور مقامی لوگوں کے مسائل سنے۔ انہوں نے صحت، تعلیم، سڑکوں اور بنیادی سہولتوں سے متعلق شکایات پر متعلقہ حکام کو اقدامات کی ہدایت کی۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری خدمات کی رسائی بڑھانا دور دراز علاقوں میں حکومتی موجودگی مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے۔

سرفراز بگٹی نے تونسہ سے بلوچستان کو ملانے والی شاہراہ اور دیگر رابطہ سڑکوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ بہتر زمینی رابطہ ڈیرہ بگٹی جیسے اضلاع کے لیے تجارتی نقل و حرکت، مریضوں کی طبی مراکز تک رسائی، تعلیمی سفر اور سرکاری خدمات کے حصول میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کے منصوبوں کے عملی نتائج فنڈنگ، تعمیراتی معیار اور مقررہ مدت میں تکمیل سے وابستہ ہوں گے۔

وزیراعلیٰ کا نو گو ایریاز نہ ہونے کا بیان حکومتی دعویٰ ہے۔ بلوچستان میں سلامتی کی صورتحال ضلع اور علاقے کے لحاظ سے مختلف رہتی ہے اور شدت پسند حملوں، سکیورٹی آپریشنز یا مقامی خطرات کی وجہ سے حالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اس بیان کو پورے صوبے میں ہر وقت یکساں سکیورٹی صورتحال کی آزادانہ تصدیق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔

صوبائی حکومت نے حالیہ عرصے میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے ساتھ روزگار، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔ ڈیرہ بگٹی قدرتی وسائل کے لحاظ سے اہم ضلع ہے لیکن اس کے کئی دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولتوں اور رابطہ انفراسٹرکچر کے مسائل موجود رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے دورے کا فوری انتظامی نتیجہ مقامی شکایات کا براہ راست اندراج اور متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری ہونا ہے۔ ان اعلانات کی حقیقی پیش رفت اس وقت واضح ہوگی جب سڑکوں، صحت، تعلیم اور دیگر سہولتوں کے منصوبوں پر عمل درآمد اور سکیورٹی سے متعلق قابلِ پیمائش نتائج سامنے آئیں گے۔