اسلام آباد: قانونی مقدمات نمٹانے کی وفاقی کابینہ کمیٹی نے گاڑیوں کی اوورلوڈنگ پر جرمانے اور سزائیں بڑھانے کی تجاویز منظور کرلی ہیں۔ کمیٹی نے پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق قانونی ترامیم کے مسودوں کو بھی منظوری دی، جبکہ کاروباری ضوابط کے انتظام سے متعلق نئے قواعد بھی آگے بڑھائے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت اجلاس میں شاہراہوں پر اوورلوڈنگ، محصولات سے متعلق قوانین اور ریگولیٹری اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ بھاری گاڑیوں میں مقررہ حد سے زیادہ وزن سڑکوں کو نقصان پہنچانے، حادثات کے خطرات بڑھانے اور انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، اسی لیے جرمانوں کو زیادہ مؤثر بنانے کی تجویز زیر غور تھی۔
کمیٹی نے اوورلوڈنگ کے خلاف زیادہ جرمانوں اور متعلقہ سفارشات کی منظوری دی۔ تاہم منظور شدہ تجاویز کو نافذ ہونے سے پہلے متعلقہ قانونی اور انتظامی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اس لیے تازہ فیصلہ حتمی نفاذ کے بجائے قانون سازی اور قواعد سازی کے عمل کا ایک اہم مرحلہ ہے۔
اجلاس میں پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق مسودہ قانونی ترامیم بھی منظور کی گئیں۔ ان ترامیم کی مکمل مالی اور عملی تفصیلات متعلقہ فورمز پر مزید کارروائی اور حتمی متن سامنے آنے کے بعد واضح ہوں گی۔ لیوی سے متعلق قوانین وفاقی محصولات، ایندھن کی قیمت اور ماحولیاتی پالیسی سے جڑے ہونے کے باعث وسیع معاشی اہمیت رکھتے ہیں۔
کمیٹی نے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس سینارٹی رولز 2026 کی اصولی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ آسان کاروبار ٹیکنیکل یونٹ اور پاکستان ریگولیٹری رجسٹری کے قیام اور کام کے طریقہ کار کے لیے مجوزہ قواعد کلیئر کیے گئے۔ یہ اقدامات حکومت کے اس وسیع ایجنڈے کا حصہ ہیں جس میں کاروباری قواعد کو یکجا، شفاف اور نسبتاً آسان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ منظور شدہ مسودے اور تجاویز اب متعلقہ فورمز کو بھیجی جائیں گی، جہاں قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد ان کے حتمی نفاذ کا فیصلہ ہوگا۔
