اسلام آباد: وفاقی حکومت نے وسط ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون، یعنی کیریک، کے تحت 140 ارب روپے مالیت کے بین العلاقائی شاہراہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے زیر التوا امور حل کرنے پر زور دیا ہے۔ یہ منصوبہ راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان سڑک کے رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
ڈان کی 10 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی مشترکہ صدارت میں جمعے کو اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ وزارت مواصلات کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اجلاس اویس لغاری کی درخواست پر بلایا گیا تاکہ کیریک ٹرانچ تھری منصوبے پر جاری کام کی صورت حال اور اہم رکاوٹوں کو زیر بحث لایا جا سکے۔
اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین نے منصوبے کی مجموعی عملی پیش رفت کے متعلق بریفنگ دی۔ شرکا نے شاہراہ کے چاروں حصوں پر ہونے والے کام اور ان سے متعلق انتظامی معاملات کا جائزہ لیا۔ تاہم جاری کردہ تفصیلات میں ہر حصے کی الگ الگ تکمیل کی شرح یا نئی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
اہم موضوعات میں اراضی کے حصول اور منصوبے سے متاثر ہونے والے افراد کی دوبارہ آبادکاری کا منصوبہ بھی شامل تھا۔ متعلقہ حکام نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے تقاضے پورے کرنے کے لیے درکار اقدامات پر بات کی۔ اس نوعیت کے منصوبوں میں زمین کی فراہمی اور متاثرہ خاندانوں کے معاملات تعمیراتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ حل کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ انتظامی تاخیر اور سماجی مسائل کم ہو سکیں۔
اجلاس میں بقایا مسائل جلد نمٹانے اور طے شدہ کام مقررہ وقت پر مکمل کرنے پر زور دیا گیا۔ منصوبے کا بنیادی مقصد پنجاب کے جنوبی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے جنوبی حصے کے درمیان بہتر زمینی رابطہ فراہم کرنا ہے، جبکہ کیریک علاقائی روابط کو فروغ دینے کا وسیع تر پروگرام ہے۔
حکام کے جاری کردہ بیان کی بنیاد پر یہ اجلاس پیش رفت کا جائزہ اور آئندہ اقدامات کی ہدایت تھا، منصوبے کی تکمیل یا نئی مالی منظوری کا اعلان نہیں۔ تعمیر کی حقیقی رفتار اور متوقع فوائد کا مزید جائزہ متعلقہ اداروں کے تازہ عمل درآمدی اعدادوشمار سامنے آنے پر ممکن ہوگا۔
