اسلام آباد: وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ایکزم بینک کو ہدایت کی ہے کہ چھوٹے کاروباروں اور نئے برآمدکنندگان کے لیے برآمدی قرضوں، مالیاتی سہولتوں اور تجارتی خطرات سے متعلق انشورنس تک رسائی وسیع کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ وزیر کے مطابق برآمدات کی معاونت صرف پہلے سے بڑے تجارتی اداروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ایسے پیداواری کاروبار بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو پہلی بار بیرونی منڈیوں میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔

ڈان کی 10 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق وزیر تجارت نے یہ بات ایکزم بینک کے چیف ایگزیکٹو افسر شہباز ایچ سید سے ملاقات میں کہی۔ سیکریٹری تجارت جواد پال بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ سرکاری بیان میں بتایا گیا کہ ملاقات میں کاروباری سرمائے کی دستیابی، عملی رہنمائی اور بیرون ملک خریداروں سے لین دین کے مالی خطرات کے انتظام پر بات ہوئی۔

جام کمال خان نے تجویز دی کہ ایکزم بینک بیرون ملک تعینات تجارت و سرمایہ کاری افسران کے ساتھ رابطہ بہتر بنائے۔ اس تعاون کا مقصد ممکنہ خریداروں اور مارکیٹ مواقع کی شناخت، کاروباری رابطوں میں آسانی اور برآمدکنندگان کو متعلقہ منڈیوں کے تقاضوں سے آگاہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے عالمی ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسیوں اور مالیاتی اداروں سے تعاون کے امکانات بھی دیکھنے کو کہا۔

ایکزم بینک کے سربراہ نے اجلاس میں بتایا کہ ادارے کی ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس بیرون ملک بعض تجارتی اور سیاسی نوعیت کے خطرات کے مقابلے میں تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ان میں خریدار کی جانب سے ادائیگی نہ ہونے یا مخصوص حالات میں بیرونی منڈی سے رقم منتقل نہ ہو سکنے کے واقعات شامل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ متعلقہ پالیسی کی شرائط میں آتے ہوں۔

بینک کے مطابق انشورنس بعض معاملات میں طے شدہ شرائط اور خطرے کی جانچ کے تحت بیمہ شدہ نقصان کے 90 فیصد تک احاطہ کر سکتی ہے، جبکہ بقیہ خطرے کا حصہ برآمدکنندہ خود اٹھاتا ہے۔ اس شرح کو تمام کاروباروں کے لیے خودکار یا غیر مشروط ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔

ملاقات میں نئی مخصوص رقم کی منظوری یا کسی اضافی قرض اسکیم کے آغاز کا اعلان نہیں ہوا۔ فی الحال توجہ موجودہ ادارہ جاتی سہولتوں کی رسائی بہتر بنانے، چھوٹے اداروں کو معلومات پہنچانے اور بیرونی منڈیوں سے روابط مضبوط کرنے پر ہے۔ ان تجاویز کے عملی نتائج آئندہ اعلانات اور ادارے کی کارکردگی سے واضح ہوں گے۔