کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اسلام آباد میں فائر اور لائف سیفٹی معیار کی عدم تعمیل پر 48 ہسپتالوں، کلینکس اور دیگر طبی مراکز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر ایک کروڑ 40 لاکھ روپے کے چالان جاری کیے ہیں۔ شہری ادارے کے ایک افسر کے مطابق یہ کارروائی معائنوں اور پہلے جاری کیے گئے نوٹسز کے بعد کی گئی۔
چالان کیے گئے اداروں میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پولی کلینک اور سی ڈی اے ہسپتال کے علاوہ کے آر ایل ہسپتال، نیسکام ہسپتال، نوری ہسپتال اور ایم سی ایچ میڈیکل سینٹر سمیت متعدد سرکاری اور نجی طبی مراکز شامل ہیں۔ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ کارروائی ان اداروں میں مقررہ فائر اور لائف سیفٹی انتظامات مکمل نہ ہونے پر کی گئی ہے۔
یہ کریک ڈاؤن پمز میں حالیہ مہلک آتشزدگی کے بعد طبی اداروں کی حفاظتی تیاری پر بڑھتی توجہ کے دوران سامنے آیا ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں، نوزائیدہ بچوں، آکسیجن سپلائی، برقی آلات اور محدود نقل و حرکت رکھنے والے افراد کی موجودگی کے باعث آگ سے بچاؤ اور ہنگامی انخلا کے انتظامات عام عمارتوں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتے ہیں۔
اسی تناظر میں راولپنڈی پولیس نے بھی تھانوں اور پولیس دفاتر میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات کا جائزہ شروع کیا ہے۔ متعلقہ حکام کو فائر ایکسٹنگوشرز اور دیگر حفاظتی آلات نصب اور فعال رکھنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پولیس عمارتوں میں اسلحہ و گولہ بارود، ریکارڈ رومز، مواصلاتی آلات اور حوالات جیسے حصوں کی وجہ سے آگ کے خطرات کے لیے مسلسل حفاظتی نظام ضروری قرار دیا گیا ہے۔
چالان جاری ہونا انتظامی نفاذ کا ایک مرحلہ ہے، لیکن ہسپتالوں میں حقیقی حفاظت کے لیے صرف جرمانے کافی نہیں ہوں گے۔ فائر الارم، قابل استعمال اخراجی راستے، تربیت یافتہ عملہ، باقاعدہ مشقیں، فعال آگ بجھانے کے آلات اور آزادانہ معائنہ ضروری ہیں۔ سی ڈی اے کی موجودہ کارروائی کے بعد یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ متعلقہ طبی مراکز خامیوں کو کس مدت میں دور کرتے ہیں اور شہری ادارہ دوبارہ معائنوں کے ذریعے تعمیل کی تصدیق کیسے کرتا ہے۔




