قومی کمیشن برائے وقار نسواں نے خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ملک بھر کی پولیس قیادت سے فوری، شفاف اور میرٹ پر مبنی تحقیقات اور مؤثر پراسیکیوشن یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن کی چیئرپرسن نورین بانو لہڑی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور وفاقی اداروں کے سینئر پولیس نمائندوں نے شرکت کی۔

کمیشن نے حالیہ متعدد مقدمات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف قتل، جنسی تشدد، ہراسانی اور دیگر جرائم میں تاخیر یا ناقص تفتیش برداشت نہیں کی جانی چاہیے۔ اجلاس میں پولیس کو ہدایت کی گئی کہ ہر مقدمہ قانونی انجام تک پہنچانے کے لیے شواہد کے تحفظ، بروقت تفتیش اور پراسیکیوشن کے ساتھ مؤثر رابطے کو یقینی بنایا جائے۔

این سی ایس ڈبلیو نے صنفی تشدد کے مقدمات کے تیز فیصلوں کے لیے خصوصی عدالتوں یا مخصوص عدالتی طریقہ کار کی ضرورت بھی اجاگر کی۔ کمیشن نے ایسے علاقوں میں پولیس گشت، نگرانی اور حفاظتی اقدامات بڑھانے کی سفارش کی جہاں خواتین اور بچیوں کو زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ ساتھ ہی شہریوں کو پولیس خدمات، شکایتی نظام اور ہنگامی مدد کے دستیاب ذرائع سے آگاہ کرنے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں مدارس، اسکولوں، کالجوں، جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں میں ہراسانی اور تشدد کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ کمیشن نے پولیس افسران، تفتیشی اہلکاروں، ڈاکٹروں، پراسیکیوٹرز، عدالتی عملے اور جیل حکام کی صنفی حساسیت سے متعلق خصوصی تربیت کی ضرورت بیان کی اور غیر قانونی جرگوں کے خلاف کارروائی پر زور دیا۔

کمیشن نے تمام انسپکٹر جنرلز آف پولیس سے کہا ہے کہ وہ ہر ماہ مقدمات کی تفتیش، پراسیکیوشن، زیر التوا کیسز، درپیش مسائل اور اٹھائے گئے عملی اقدامات کا ڈیٹا فراہم کریں۔ این سی ایس ڈبلیو کے شکایتی نظام کو پولیس قیادت سے مؤثر طور پر جوڑنے اور صوبائی خواتین ترقی محکموں کے ساتھ براہ راست رابطہ بڑھانے کی ہدایت بھی کی گئی۔ خواتین قیدیوں کے تحفظ، بحالی اور کام کے مساوی معاوضے سے متعلق نگرانی کو بھی اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا۔