خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال خار کے ڈاکٹروں اور طبی عملے نے ایک ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد کے خلاف ہڑتال کی، جس سے ہسپتال کی بیشتر معمول کی خدمات متاثر ہوئیں۔ او پی ڈی، لیبارٹری اور الٹراساؤنڈ سمیت متعدد شعبے بند رہے، تاہم ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ مریضوں کو خدمات فراہم کرتا رہا۔

ہڑتال کی کال باجوڑ ڈاکٹرز فورم اور باجوڑ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے دی تھی۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہفتے کی رات ایمرجنسی وارڈ میں ایک شدید زخمی مریض کی موت کے بعد اس کے بعض لواحقین نے ایک ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ طور پر ہاتھا پائی کی۔ ڈاکٹروں کا مؤقف ہے کہ طبی عملے نے مریض کو بچانے کی پوری کوشش کی تھی اور تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

ہڑتال کے دوران کئی نجی کلینکس بھی بند رہے، جس سے علاج کے لیے آنے والے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مختلف علاقوں سے مریض لانے والے بعض افراد نے ہسپتال کے باہر احتجاج کیا اور علاج کی عدم دستیابی پر سڑک تقریباً ایک گھنٹے تک بند رکھی۔ بعد میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور مقامی سماجی و سیاسی نمائندوں نے مظاہرین سے بات چیت کرکے راستہ کھلوایا۔

ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے حکام نے ڈاکٹر تنظیموں سے مذاکرات کیے اور ان کے مطالبات پر 48 گھنٹوں میں پیش رفت کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے بعد ڈاکٹر رہنماؤں نے ہڑتال تین دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کی گرفتاری سمیت مطالبات پورے نہ ہوئے تو احتجاج دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

واقعہ ایک طرف طبی عملے کے تحفظ اور دوسری طرف مریضوں کی علاج تک مسلسل رسائی کے دو اہم مسائل کو نمایاں کرتا ہے۔ ڈاکٹر پر تشدد کا الزام ابھی متعلقہ قانونی اور پولیس کارروائی کے تابع ہے اور خبر میں اسے ثابت شدہ جرم کے بجائے تنظیموں کے الزام کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے لیے چیلنج یہ ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے ساتھ ہسپتال کی خدمات بھی بلا تعطل بحال رکھی جائیں۔