خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کی ایک مقامی عدالت نے دو بھائیوں کے قتل کے مقدمے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر اعجاز خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ سزائے موت سنائی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج صوابی مشتاق احمد خان نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مقتولین کے قانونی ورثا کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم بھی دیا۔

مقدمہ 24 جون 2024 کو کرنل شیر خان گاؤں میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق تھا۔ استغاثہ کے مطابق کان کی ملکیت سے متعلق معمولی جھگڑے کے بعد اعجاز خان نے پانچ افراد پر فائرنگ کی تھی، جس سے دو بھائی ہلاک اور تین دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ عدالت نے دستیاب شواہد اور مقدمے کی سماعت کے بعد ملزم کو قتل کے دونوں الزامات میں سزا سنائی۔

مختصر فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ سزائے موت کا نفاذ قانون کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کی توثیق سے مشروط ہوگا۔ پاکستان کے فوجداری عدالتی نظام میں ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کی متعلقہ ہائیکورٹ سے تصدیق ضروری ہوتی ہے اور مجرم کو فیصلے کے خلاف اپیل کا قانونی حق بھی حاصل رہتا ہے۔

عدالت نے ہر قتل کے سلسلے میں معاوضے کی ادائیگی کا حکم دیا، جس کی مجموعی رقم 20 لاکھ روپے بنتی ہے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں اضافی سادہ قید کی سزا بھی مقرر کی گئی۔ عدالت نے تین افراد کو زخمی کرنے کے معاملے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 324 کے تحت بھی اعجاز خان کو مجرم قرار دیا اور ہر زخمی کے حوالے سے پانچ سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔

یہ فیصلہ ٹرائل کورٹ کی سطح پر جرم ثابت ہونے کا عدالتی نتیجہ ہے، تاہم قانونی عمل ابھی مکمل نہیں ہوا کیونکہ سزائے موت کی ہائیکورٹ سے توثیق اور ممکنہ اپیلیں باقی ہیں۔ مقدمے کی آئندہ کارروائی میں پشاور ہائیکورٹ ٹرائل ریکارڈ، شواہد اور قانونی نکات کا جائزہ لے گی۔ اس مرحلے پر سزا کو حتمی ناقابل اپیل نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔