اپر جنوبی وزیرستان کی تحصیل مکین میں امن و امان کی صورتحال کے خلاف مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، جس میں تاجروں، قبائلی عمائدین، سیاسی کارکنوں، سماجی نمائندوں اور مقامی شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور بار بار کرفیو کے نفاذ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے سکیورٹی بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔

مقامی تاجر تنظیم کے صدر ریاض محسود اور دیگر مقررین نے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپر جنوبی وزیرستان، بالخصوص مکین، میں مسلسل پرتشدد واقعات نے خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے روزمرہ زندگی کے ساتھ کاروباری، معاشی اور سماجی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ بیانات مظاہرین کے مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ سابق قبائلی اضلاع کے شہری گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نقل مکانی اور بدامنی کے باعث بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق ہزاروں خاندان ماضی میں اپنے گھروں سے دور رہنے پر مجبور ہوئے اور کاروبار، زمین اور روزگار متاثر ہوئے۔ مظاہرین نے کہا کہ اب ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ مستقل امن، شہری آزادی اور معمول کی معاشی سرگرمیوں کے لیے قابل اعتماد ماحول فراہم کریں۔

شٹر ڈاؤن کے باعث مکین میں کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہیں۔ احتجاج کا بنیادی مطالبہ قانون کی عملداری مضبوط کرنا، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور ایسے حالات سے بچنا تھا جن میں سکیورٹی اقدامات کے باعث معمول کی زندگی مسلسل متاثر ہو۔ مظاہرین نے حکام سے صرف عارضی انتظامات کے بجائے طویل مدتی اور عملی سکیورٹی حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کیا۔

جنوبی وزیرستان اور خیبر پختونخوا کے دیگر جنوبی اضلاع میں حالیہ عرصے میں سکیورٹی سے متعلق متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش برقرار ہے۔ مکین کا احتجاج کسی مخصوص واقعے تک محدود نہیں بلکہ مظاہرین نے اسے مجموعی امن و امان کی صورتحال کے خلاف ردعمل قرار دیا۔ حکومت یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے احتجاج کے تمام مطالبات پر فوری تفصیلی جواب رپورٹ نہیں ہوا۔