چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے بلوچستان ہائیکورٹ کے احاطے میں نئے پبلک فسیلیٹیشن سینٹر کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کو روایتی عدالت مرکز نظام سے آگے بڑھ کر شہریوں کی ضروریات پر مبنی نظام اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق انصاف کی اصل کسوٹی یہ ہے کہ ملک کے ہر شہری کو بلا امتیاز آسان، تیز اور مؤثر انصاف تک رسائی حاصل ہو۔

کوئٹہ میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیکنالوجی بذات خود مقصد نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی کا ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل نظام اسی وقت مفید ہوگا جب وہ عدالتی عمل کو زیادہ تیز، شفاف اور انسانی ضروریات سے ہم آہنگ بنائے۔ انہوں نے پبلک فسیلیٹیشن سینٹر کو محض نئی عمارت یا سہولت کے بجائے شہریوں تک انصاف پہنچانے کے بنیادی عزم کا عملی اظہار قرار دیا۔

تقریب میں وفاقی آئینی عدالت کے جج، سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز، بلوچستان ہائیکورٹ کے رجسٹرار، بلوچستان بار کونسل اور ہائیکورٹ بار کے نمائندوں، وکلا اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔ افتتاح کے بعد چیف جسٹس نے مرکز کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور سائلین اور وکلا کے لیے فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا۔

پاکستان کے عدالتی نظام کو مقدمات کے التوا، شہریوں کے لیے معلومات تک مشکل رسائی اور مختلف عدالتوں میں انتظامی طریقہ کار کے فرق جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ عوامی سہولت مراکز کا تصور عدالتی معلومات، مقدمات سے متعلق رہنمائی اور بنیادی خدمات کو ایک جگہ مہیا کرکے سائلین کے لیے نظام کو نسبتاً آسان بنانے کی کوشش ہے۔ تاہم ایسے مراکز کی اصل افادیت کا انحصار عملے کی تربیت، معلومات کی بروقت دستیابی اور ڈیجیٹل نظام کے قابل اعتماد ہونے پر ہوگا۔

چیف جسٹس کا شہری مرکز عدلیہ پر زور عدالتی اصلاحات کے اس وسیع تصور کا حصہ ہے جس میں ادارہ جاتی کارکردگی کے ساتھ عام شہری کے تجربے کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ بلوچستان جیسے وسیع صوبے میں جہاں بہت سے شہری عدالتوں سے طویل فاصلے پر رہتے ہیں، ٹیکنالوجی اور سہولت مراکز کے ذریعے رسائی بہتر بنانے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ نئے مرکز کی کارکردگی کا عملی جائزہ اس بات سے ہوگا کہ سائلین کو عدالتی معلومات اور خدمات حاصل کرنے میں کتنا وقت اور خرچ بچتا ہے۔