اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ای-12 میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے اور مجموعی کام کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ مکمل کیا جا چکا ہے۔ یہ سیکٹر 1989 میں شروع کیا گیا تھا، لیکن زمین پر قبضوں اور دیگر انتظامی مسائل کے باعث 37 برس گزرنے کے باوجود اس کی مکمل ترقی نہیں ہو سکی تھی۔

سی ڈی اے کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق حالیہ کارروائی میں 1,135 کنال سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی، جس کے بعد ان حصوں میں ترقیاتی سرگرمیاں دوبارہ منظم انداز میں شروع کی گئیں جہاں طویل عرصے سے کام رکا ہوا تھا۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی ہدایت پر متعلقہ شعبے سڑکوں اور بنیادی شہری انفراسٹرکچر کے کام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

سیکٹر ای-12 اسلام آباد کے ان رہائشی منصوبوں میں شامل ہے جہاں طویل تاخیر نے الاٹیوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کیے۔ منصوبے کے آغاز کے بعد کئی دہائیاں گزرنے کے دوران ابتدائی الاٹیوں میں سے متعدد افراد وفات پا چکے ہیں اور پلاٹوں کی ملکیت ان کے ورثا تک منتقل ہوئی۔ اس دوران زمین کے بعض حصوں پر مخالفانہ قبضہ اور اراضی کے تنازعات ترقیاتی کام میں بڑی رکاوٹوں میں شمار ہوتے رہے۔

سی ڈی اے کے مطابق زمین واگزار ہونے کے بعد اب مکمل پیمانے پر ترقیاتی کام ممکن ہوا ہے۔ اتھارٹی نے پیش رفت کو 60 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے، تاہم دستیاب اعلان میں پورے سیکٹر کی تکمیل کی کوئی قطعی تاریخ نہیں دی گئی۔ اس لیے باقی کام کی رفتار اور حتمی قبضہ دینے کے مراحل متعلقہ انفراسٹرکچر اور انتظامی کارروائیوں کی تکمیل سے وابستہ رہیں گے۔

اسلام آباد میں رہائشی سیکٹرز کی بروقت تکمیل شہری منصوبہ بندی اور رہائش کی دستیابی کے لیے اہم مسئلہ رہی ہے۔ ای-12 کی غیر معمولی تاخیر اس حوالے سے نمایاں مثال ہے کیونکہ منصوبہ شروع ہونے کے بعد ایک پوری نسل گزر چکی ہے۔ حالیہ زمین واگزاری نے سی ڈی اے کو ایسے علاقوں تک رسائی دی ہے جہاں پہلے ترقیاتی کام محدود تھا۔

اتھارٹی کی موجودہ پیش رفت کا عملی اثر اس وقت واضح ہوگا جب باقی انفراسٹرکچر مکمل ہونے کے ساتھ الاٹیوں کو اپنے پلاٹوں تک مؤثر رسائی اور تعمیر کی سہولت حاصل ہوگی۔ فی الحال سی ڈی اے نے 60 فیصد سے زائد مجموعی پیش رفت اور 1,135 کنال زمین کی واگزاری کو منصوبے کی بحالی میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔