کوئٹہ: کوئٹہ ڈویژن کے کمشنر ذیشان لشاری نے متعلقہ اداروں کو ڈویژن میں موجود 96 غیر رجسٹرڈ دینی مدارس کی رجسٹریشن کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ احکامات ڈویژنل مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں دیے گئے، جس میں ڈپٹی کمشنرز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی ایجنسیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں مدارس کی رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی اقدامات، مشتبہ افراد کی پروفائلنگ اور مختلف اداروں کے درمیان انٹیلی جنس رابطہ کاری کا جائزہ لیا گیا۔ کمشنر نے اسپیشل برانچ کو غیر رجسٹرڈ مدارس کے تازہ جغرافیائی کوائف فراہم کرنے جبکہ بلوچستان چیریٹی رجسٹریشن اتھارٹی کو ان اداروں کی رجسٹریشن تیز کرنے کی ہدایت کی۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ فورتھ شیڈول میں شامل 120 افراد کا ریکارڈ BISA ٹریکنگ ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔ فورتھ شیڈول میں شمولیت ایک انتظامی و قانونی نگرانی کا اقدام ہے؛ یہ بذات خود کسی فرد کے خلاف کسی جرم میں عدالتی سزا کا متبادل نہیں۔ اجلاس میں ان افراد کی نگرانی اور متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔
مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ پاکستان میں طویل عرصے سے انتظامی، تعلیمی اور سکیورٹی پالیسی کا حصہ رہا ہے۔ رجسٹریشن کے ذریعے حکومت اداروں کے بنیادی کوائف، مقام اور انتظامی حیثیت کا ریکارڈ مرتب کرتی ہے۔ کوئٹہ ڈویژن میں تازہ ہدایت کا مقصد باقی رہ جانے والے 96 اداروں کو متعلقہ قانونی و انتظامی فریم ورک میں لانا ہے۔
اجلاس میں صرف سکیورٹی امور ہی نہیں بلکہ عوامی تعلیم اور صحت کی خدمات سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈویژنل انتظامیہ نے متعلقہ اضلاع کو سرکاری خدمات کی نگرانی بہتر بنانے اور اداروں کے درمیان عملی رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
مدارس کی رجسٹریشن تیز کرنے کے فیصلے کا اگلا مرحلہ اسپیشل برانچ کے تازہ جغرافیائی ریکارڈ اور چیریٹی رجسٹریشن اتھارٹی کی کارروائی سے وابستہ ہوگا۔ دستیاب معلومات میں تمام 96 مدارس کی رجسٹریشن مکمل کرنے کی کوئی مخصوص حتمی تاریخ نہیں دی گئی، اس لیے پیش رفت کا جائزہ آئندہ انتظامی رپورٹس سے ممکن ہوگا۔
