لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے قانون سازی اور عدالتی جائزے سے متعلق ایک فیصلے میں واضح کیا ہے کہ قوانین بنانا منتخب مقننہ کا آئینی اختیار ہے، تاہم اس اختیار کا استعمال آئین کی مقرر کردہ حدود کے اندر ہونا ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق پارلیمان کی قانون سازی کو محض پالیسی اختلاف کی بنیاد پر عدالت تبدیل نہیں کرتی، لیکن آئینی تقاضوں سے متصادم قانون عدالتی جانچ سے بالاتر نہیں ہوتا۔

فیصلے میں اختیارات کی آئینی تقسیم کے اصول کو بنیادی اہمیت دی گئی۔ مقننہ قانون بناتی ہے، انتظامیہ ان قوانین پر عمل درآمد کرتی ہے اور عدلیہ تنازع کی صورت میں قانون اور آئین کی تشریح کرتی ہے۔ اس تقسیم کا مقصد ریاستی اداروں کے درمیان توازن برقرار رکھنا اور کسی ایک ادارے کے اختیار کو غیر محدود ہونے سے روکنا ہے۔

عدالت نے اس اصول کی بھی وضاحت کی کہ عدالتی جائزہ قانون سازی کے عمل کا متبادل نہیں۔ عدالتیں عام طور پر یہ فیصلہ نہیں کرتیں کہ کوئی پالیسی سیاسی یا معاشی طور پر بہترین ہے یا نہیں؛ ان کا بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ قانون آئین، بنیادی حقوق اور قانون سازی کے مقررہ اختیار کے مطابق ہے یا نہیں۔ اس فرق سے مقننہ کے پالیسی اختیار اور عدلیہ کی آئینی ذمہ داری کی حد واضح ہوتی ہے۔

پاکستان کے آئینی نظام میں پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کو اپنے متعلقہ دائرۂ اختیار میں قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔ اس کے ساتھ شہریوں کے بنیادی حقوق اور دیگر آئینی ضمانتیں بھی ریاستی قانون سازی کے لیے حدود مقرر کرتی ہیں۔ اگر کسی قانون کو عدالت میں چیلنج کیا جائے تو درخواست گزار کو یہ دکھانا ہوتا ہے کہ اس میں قابل سماعت آئینی یا قانونی خلاف ورزی موجود ہے۔

فیصلے کی اہمیت اس وسیع اصول میں ہے کہ منتخب مقننہ کے قانون سازی کے اختیار کا احترام اور آئین کی بالادستی ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ پارلیمان اپنے سیاسی مینڈیٹ کے تحت قانون سازی کر سکتی ہے، لیکن آئینی عدالتیں اس بات کا جائزہ لینے کا اختیار رکھتی ہیں کہ یہ قانون مقررہ آئینی حدود میں ہے یا نہیں۔

اس نوعیت کے عدالتی فیصلے مستقبل کے مقدمات میں قانون سازی کے خلاف چیلنجز کے لیے اصولی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ تاہم ہر نئے مقدمے کا نتیجہ متعلقہ قانون، اس کے متن، قانون سازی کے اختیار، بنیادی حقوق پر اثر اور مخصوص حقائق کی بنیاد پر طے ہوگا؛ اس لیے موجودہ اصول کو ہر قانون کے خودکار طور پر درست یا غلط ہونے کا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔