کراچی: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ملک میں بڑی متعدی اور قابلِ تدارک بیماریوں کے اشاریوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پولیو، تپ دق، ایچ آئی وی/ایڈز اور ہیپاٹائٹس کے خاتمے یا کنٹرول کے لیے کام کرنے والے سرکاری پروگراموں اور غیر سرکاری تنظیموں کے جامع فرانزک اور مالی آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ کئی دہائیوں سے قومی خزانے، بین الاقوامی گرانٹس اور ڈونر فنڈنگ کے باوجود پاکستان متعدد عالمی صحت اہداف میں پیچھے ہے۔
پی ایم اے نے حالیہ انتظامی اقدامات، خصوصاً اکنامک افیئرز ڈویژن کی جانب سے گلوبل فنڈ سے معاونت یافتہ بعض اداروں کے خصوصی آڈٹ کے اقدام کا خیرمقدم کیا، تاہم کہا کہ احتساب کا دائرہ صرف چند اداروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح کے بیماری کنٹرول پروگراموں، عمودی صحت منصوبوں اور متعلقہ این جی اوز کی مالی کارکردگی، خریداری، عملی نتائج اور فنڈز کے استعمال کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔
پی ایم اے کے ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے تنظیم کی جانب سے کہا کہ بیماریوں کے خاتمے کے نام پر ہر سال بڑی رقوم خرچ ہوتی ہیں لیکن بنیادی صحت کا ڈھانچہ کمزور، طبی عملہ دباؤ کا شکار اور بیماریوں کا بوجھ بدستور زیادہ ہے۔ انہوں نے ادارہ جاتی سستی، شفافیت کی کمی، نچلی سطح پر کمزور عمل درآمد اور انتظامی بے قاعدگیوں کو ایسے عوامل قرار دیا جو پروگراموں کی تاثیر کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ مؤقف پی ایم اے کا ہے اور کسی مخصوص ادارے کے خلاف مالی بدعنوانی کی عدالتی یا حتمی سرکاری finding کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
ایسوسی ایشن نے تجویز دی کہ آڈٹ معتبر اور غیر جانب دار مالی نگرانی کے اداروں کی نگرانی میں ہوں اور ان کے نتائج عوامی احتساب اور پالیسی اصلاحات کے لیے استعمال کیے جائیں۔ پی ایم اے کے مطابق صرف اخراجات کی جانچ کافی نہیں بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ خرچ کی گئی رقم کے مقابلے میں بیماریوں کی روک تھام، تشخیص، علاج اور عوامی صحت کے نتائج میں کتنی بہتری آئی۔
پاکستان میں پولیو، ٹی بی، ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس کے خلاف پروگرام وفاقی و صوبائی اداروں، بین الاقوامی شراکت داروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے مختلف انتظامات کے تحت چلتے ہیں۔ پی ایم اے کا تازہ مطالبہ ان پروگراموں کی مجموعی کارکردگی اور مالی شفافیت پر وسیع تر جانچ کی اپیل ہے، جس پر متعلقہ سرکاری اداروں کا تفصیلی جواب سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
