اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے وفاقی دارالحکومت میں فائر سیفٹی ضوابط پر عمل درآمد کی مہم کے دوران اب تک 14 عمارتیں سیل کر دی ہیں، جبکہ تقریباً 200 سرکاری اور نجی عمارتوں کو حفاظتی خامیاں دور کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق کارروائی پمز میں 26 اگست کو پیش آنے والی آتشزدگی کے بعد تیز کی گئی، جس میں نوزائیدہ بچوں کے شعبے میں 14 بچے جاں بحق ہوئے تھے۔
سی ڈی اے کی 3 ستمبر کی سرکاری تفصیل میں پہلے مرحلے کے دوران پانچ عمارتیں سیل کرنے کی تصدیق کی گئی تھی۔ ان میں شہید ملت سیکریٹریٹ، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی عمارت، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی عمارت، بیورلی سینٹر پلازا اور کراؤن پلازا ہوٹل کی عمارت شامل ہیں۔ بعد میں اتھارٹی کے ایک افسر نے عرب نیوز پاکستان کو بتایا کہ مختلف کارروائیوں میں سیل کی گئی عمارتوں کی مجموعی تعداد 14 ہو چکی ہے۔
اتھارٹی کے مطابق معائنے میں ہنگامی اخراج، فائر الارم، آگ بجھانے والے آلات، پانی کے نظام، دھواں نکالنے کے انتظام اور انخلا کے منصوبوں کو جانچا جا رہا ہے۔ نوٹس حاصل کرنے والے اداروں میں بڑے ہوٹلوں، ریگولیٹری اداروں کے دفاتر اور 75 سے زیادہ سرکاری و نجی اسپتالوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ نوٹس کا اجرا بذاتِ خود حتمی خلاف ورزی یا عمارت بند کرنے کا فیصلہ نہیں؛ متعلقہ اداروں کو خامیوں کی وضاحت یا اصلاح کے لیے قانونی و انتظامی عمل سے گزرنا ہوگا۔
سی ڈی اے کے سرکاری بیان کے مطابق کیپیٹل اسپتال، پولی کلینک اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو فائر سیفٹی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔ بعد کی رپورٹ میں پولی کلینک اور سی ڈی اے اسپتال کے جرمانوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔ جرمانوں اور عمارتیں سیل کرنے کی کارروائیوں کو الگ مراحل کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اس لیے ہر ادارے کی موجودہ قانونی حیثیت متعلقہ نوٹس یا حکم کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
پمز آتشزدگی کے بعد سی ڈی اے کی ایک معائنہ رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ بعض ہنگامی راستے بند یا رکاوٹ زدہ تھے اور جان بچانے کے انتظامات ناکافی تھے۔ پمز انتظامیہ نے اس نتیجے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی راستے کھلے اور قابل استعمال تھے۔ اس اختلاف کی حتمی ذمہ داری کسی مجاز تحقیقات، محکمانہ کارروائی یا عدالتی نتیجے سے طے ہوگی؛ خبر میں دونوں مؤقف واضح طور پر الگ رکھے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بالخصوص پرانی تجارتی عمارتوں، بلیو ایریا، جی نائن اور جی ٹین کے بعض حصوں میں فائر سیفٹی کے نظام کو فوری توجہ درکار ہے۔ بڑے شاپنگ مراکز اور کثیرالمنزلہ عمارتیں بھی نئے حفاظتی آڈٹ کے دائرے میں ہیں۔ سی ڈی اے نے عمارت کنٹرول شعبے اور ایمرجنسی اداروں کے ساتھ مشترکہ نفاذی منصوبہ تیار کرنے کی بات کی ہے تاکہ صرف نوٹس جاری کرنے کے بجائے اصلاحات کی عملی جانچ بھی ہو۔
پمز سانحے نے اسپتالوں اور عوامی عمارتوں میں انخلا کے راستوں، تربیت یافتہ عملے اور فعال الارم نظام کی اہمیت دوبارہ اجاگر کی ہے۔ سی ڈی اے کے مطابق معائنوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور جو ادارے مقررہ مدت میں ضروری انتظامات نہیں کریں گے ان کے خلاف جرمانے، سیلنگ یا دیگر قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ہر آئندہ کارروائی متعلقہ معائنے، نوٹس اور قانون کے تحت الگ حکم کی محتاج ہوگی۔




