اسلام آباد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس، پائیڈ، کو مطلوبہ موزوں زمین فراہم کی جائے، اور اگر ایسا ممکن نہیں تو ادارے کی جمع کرائی گئی تقریباً 4 ارب روپے کی رقم واپس کی جائے۔ یہ ہدایت 3 ستمبر 2026 کو مختلف ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں دی گئی، جس کی تفصیل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری اعلامیے میں جاری ہوئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پائیڈ نے 2017 سے 2020 کے دوران سی ڈی اے کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 4 ارب روپے جمع کرائے تھے، لیکن چھ سال گزرنے کے باوجود اسے مطلوبہ زمین نہیں ملی۔ وفاقی وزیر نے اس تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سی ڈی اے سے فوری اور دوٹوک جواب مانگا۔ سرکاری بیان میں جمع شدہ رقم کی تاریخ وار تقسیم، مجوزہ رقبے، مقام یا اصل معاہدے کی مکمل شرائط فراہم نہیں کی گئیں۔
وزارت منصوبہ بندی کے مطابق پائیڈ 2022 سے مسلسل اس معاملے کی پیروی کر رہا ہے، لیکن قابلِ عمل پیش رفت نہیں ہوسکی۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ادارے کے لیے مختص کی جانے والی زمین مختلف مواقع پر قانونی یا ملکیتی مسائل سے متاثر پائی گئی۔ اعلامیے نے ان مسائل کی نوعیت، زیر سماعت مقدمات، دعوے دار فریقوں یا کسی حتمی قانونی فیصلے کی تفصیل بیان نہیں کی، اس لیے کسی فرد یا ادارے کی قانونی ذمہ داری کے بارے میں اضافی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
احسن اقبال نے کہا کہ پائیڈ کو زمین فوری درکار ہے اور معاملہ مزید غیر معینہ مدت تک زیر التوا نہیں رہنا چاہیے۔ ان کی ہدایت کے مطابق سی ڈی اے کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ قابلِ استعمال اور تنازع سے پاک زمین فراہم کرسکتا ہے یا نہیں۔ اگر مناسب زمین دستیاب نہ ہو تو تقریباً 4 ارب روپے کی واپسی کا راستہ اختیار کیا جائے۔ موجودہ سرکاری بیان میں جواب دینے کی مخصوص آخری تاریخ، رقم کی واپسی کا طریقہ یا کسی اضافی مالی ادائیگی کا ذکر نہیں کیا گیا۔
پائیڈ وفاقی سطح کا معاشی تحقیق اور تدریس سے متعلق ادارہ ہے، اس لیے مستقل کیمپس یا مناسب جگہ کا معاملہ ادارہ جاتی منصوبہ بندی، تحقیقی سہولتوں اور تعلیمی سرگرمیوں سے جڑا ہے۔ تاہم موجودہ اجلاس میں کیمپس کے ڈیزائن، تعمیر کی لاگت، طلبہ یا تحقیقاتی مراکز کی مجوزہ گنجائش پر کوئی نئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ زمین ملنے کی صورت میں بھی تعمیر کے لیے الگ منصوبہ بندی، منظوری، بجٹ اور خریداری کے مراحل درکار ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ جب ایک سرکاری ادارے کو اپنے جائز معاملے کے حل میں اتنی طویل تاخیر کا سامنا ہے تو عام شہریوں کے لیے منصفانہ اور بروقت انتظامی سہولت کا سوال مزید اہم ہوجاتا ہے۔ یہ بیان سی ڈی اے کی کارکردگی پر انتظامی تنقید ہے، لیکن سرکاری اعلامیے میں بدعنوانی، فنڈ کے غلط استعمال یا کسی مخصوص افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کا الزام یا فیصلہ شامل نہیں۔
اسی اجلاس میں کچھی کینال فیز ٹو، علامہ اقبال میموریل و اقبال لائبریری اور لورالائی سے ژوب کو ملانے والی 35 کلومیٹر سڑک سمیت دیگر منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پائیڈ زمین سے متعلق ہدایت ان متعدد معاملات میں ایک الگ انتظامی فیصلہ ہے۔ دیگر منصوبوں کی پیش رفت کو اس ہدایت کے ساتھ خلط نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ہر منصوبے کے ذمہ دار ادارے، فنڈنگ اور عملی مراحل مختلف ہیں۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت پائیڈ کی جانب سے 2017 سے 2020 کے دوران تقریباً 4 ارب روپے جمع کرانے کا سرکاری حوالہ، چھ سال بعد بھی زمین نہ ملنے پر وفاقی وزیر کی تشویش اور سی ڈی اے کو زمین فراہم کرنے یا رقم واپس کرنے کی واضح ہدایت ہے۔ زمین کی حقیقی الاٹمنٹ، قبضے کی منتقلی یا رقم کی واپسی مکمل ہونے کی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔




