اسلام آباد: مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس میں مجموعی طور پر 40.915 ارب روپے مالیت کے دس ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی، جبکہ 172.25 ارب روپے کے تین بڑے منصوبوں کو حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو بھیجنے کی سفارش کی گئی۔
اجلاس میں زیر غور بڑے منصوبوں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت رکھنے والے آبپاشی کے دو منصوبے نمایاں رہے جن کی مشترکہ لاگت تقریباً 129.19 ارب روپے بنتی ہے اور ان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت شامل ہے۔ خیبرپختونخوا ریزیلینٹ اریگیٹڈ ایگریکلچر لائیولی ہڈز ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کی مالیت 69.893 ارب روپے بتائی گئی۔ منصوبے کے تحت پیہور مین کینال کی بحالی، ملک ہو آبپاشی تقسیم نظام کی تعمیر اور پیہور ہائی لیول کینال میں توسیع شامل ہے۔
دوسرا بڑا منصوبہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں انٹیگریٹڈ ہل ٹورنٹ مینجمنٹ، چچار مٹھاون، ہے جس کی لاگت 85.342 ارب روپے بتائی گئی۔ اس میں سیلابی پانی سے آبپاشی، حفاظتی چینلز، ٹیلی میٹری اور مرکزی اسکاڈا مانیٹرنگ جیسے اجزا شامل ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور پنجاب حکومت اس منصوبے کی مشترکہ مالی معاونت کریں گے۔
سی ڈی ڈبلیو پی نے نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے وزیراعظم سولر اسکیم کو بھی اصولی طور پر منظور کرتے ہوئے اسے ایکنک کو بھیجنے کی سفارش کی۔ تقریباً 13.323 ارب روپے کے اس منصوبے کا مقصد گھروں کو آف گرڈ شمسی توانائی کے حل فراہم کرنا ہے۔ اسی طرح قومی شاہراہ این 45 کو چکدرہ سے تیمرگرہ تک 39 کلومیٹر حصے میں چوڑا کرنے کا منصوبہ بھی ایکنک کو بھیجنے کی سفارش کی گئی، جس کے لیے ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی فنانسنگ کا ذکر کیا گیا ہے۔
منظور کیے گئے دیگر منصوبوں میں مختلف علاقوں میں دانش اسکول، وزیراعظم یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹرز، ٹیلنٹ ہنٹ یوتھ اسپورٹس لیگ، نیشنل انوویشن ایوارڈ، کھیلوں کی اکیڈمیز اور یوتھ اولمپکس، پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کی تنظیم نو اور جھمپیر ون گرڈ اسٹیشن پر بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کا پائلٹ منصوبہ شامل ہیں۔ شاہدرہ میں امامیہ کالونی ریلوے کراسنگ پر آٹھ لین اوورہیڈ برج کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا۔
سی ڈی ڈبلیو پی کی منظوری اور ایکنک کو سفارش دو الگ مراحل ہیں۔ جن بڑے منصوبوں کو ایکنک بھیجا گیا ہے، ان پر حتمی وفاقی منظوری ابھی باقی ہے؛ اس لیے انہیں اس مرحلے پر مکمل طور پر منظور شدہ منصوبے قرار نہیں دیا جا سکتا۔
