لاہور: لاہور اسکول آف اکنامکس کے پالیسی انسرٹنٹی انڈیکس کے مطابق پاکستان میں معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری پالیسی سے متعلق غیر یقینی ستمبر 2026 کے دوران نمایاں طور پر کم ہوئی۔ انڈیکس ماہانہ بنیاد پر 24.21 فیصد کمی کے بعد 162.46 پر آ گیا، جسے کاروباری اور سرمایہ کار حلقوں کے لیے پالیسی ماحول میں نسبتاً زیادہ وضاحت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

مطالعے کے مطابق ستمبر میں غیر یقینی میں کمی کے پس منظر میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے اس وقت پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنا، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے ٹیکس وصولی ہدف کا حصول شامل تھا۔ ان عوامل نے شرح سود، بیرونی ادائیگیوں اور سرکاری آمدن سے متعلق بعض فوری خدشات کو کم کیا۔ تاہم انڈیکس کے نتائج یہ نہیں کہتے کہ تمام معاشی خطرات ختم ہو گئے؛ ایندھن کی قیمتیں، سبسڈیز اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مذاکرات میں تاخیر سے متعلق تشویش بدستور موجود رہی۔

پالیسی انسرٹنٹی انڈیکس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ پالیسی کے بارے میں غیر واضح صورتحال کاروباری فیصلوں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے۔ زیادہ غیر یقینی کی صورت میں کمپنیاں سرمایہ کاری، بھرتیوں اور توسیع کے فیصلے مؤخر کر سکتی ہیں، جبکہ نسبتاً واضح پالیسی سمت منصوبہ بندی کے لیے بہتر بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ستمبر کی ماہانہ کمی اسی تناظر میں اہم ہے، اگرچہ ایک ماہ کی حرکت کو طویل مدتی رجحان سمجھنے کے لیے مزید اعداد و شمار درکار ہوتے ہیں۔

ستمبر کے بعد معاشی ماحول میں نئی تبدیلیاں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی توانائی قیمتوں کا دباؤ اور اکتوبر کے آخر میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں اضافہ شامل ہیں۔ اس لیے ستمبر کا انڈیکس اس مخصوص مہینے کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے اور اسے اکتوبر کے بعد کے واقعات پر براہ راست لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

کاروباری اعتماد کے لیے آئندہ اہم عوامل میں توانائی کی قیمتیں، مالیاتی نظم، ٹیکس وصولیاں، بیرونی فنانسنگ اور شرح سود کی سمت شامل رہیں گے۔ ایل ایس ای کے ستمبر کے اعداد و شمار سے اتنا ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اس مہینے میں پالیسی سے متعلق خدشات اگست کے مقابلے میں کم ہوئے، لیکن پائیدار بہتری کا تعین آنے والے مہینوں کے مسلسل رجحان سے ہوگا۔