اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے اعلان کیا ہے کہ حکومت ملک میں گندم کی بلا تعطل فراہمی اور ممکنہ مارکیٹ رکاوٹوں سے تحفظ کے لیے اسٹریٹجک ذخائر 60 لاکھ ٹن تک برقرار رکھے گی۔ انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتظامات کی بنیاد پر رواں سال پاکستان میں گندم کی قلت کا خدشہ نہیں ہے۔

وزیر کے مطابق حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد 2027 کی فصل کے لیے گندم کی اشاریاتی قیمت 4,500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی ہے۔ یہ قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ہزار روپے زیادہ ہے۔ رانا تنویر حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ نئی قیمت کا مقصد مقامی مارکیٹ میں استحکام اور کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ ہے۔

انہوں نے کہا کہ درآمدی گندم کی لاگت بھی تقریباً 4,500 روپے فی من کے قریب پڑ سکتی ہے، اس لیے حکومت غیر ضروری درآمدات کے بجائے مقامی کسانوں سے خریداری کو ترجیح دینا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن، پاسکو، کے ذخائر سے صوبوں کو 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ گندم فراہم کی جا چکی ہے۔ صوبائی ضرورت اور طلب کی صورت میں ساڑھے پانچ لاکھ میٹرک ٹن تک گندم درآمد کرنے کے انتظامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں گندم کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پر بات کرتے ہوئے وزیر نے موجودہ اضافے کو بعض مارکیٹ عناصر کی جانب سے مصنوعی اور جوڑ توڑ پر مبنی قرار دیا۔ یہ حکومت کا مؤقف ہے؛ مارکیٹ میں قیمت بڑھنے کی وجوہات کے آزادانہ تعین کے لیے الگ اعدادوشمار اور تحقیقات درکار ہو سکتی ہیں۔ وزیر نے کہا کہ ملک میں مناسب ذخائر موجود ہیں اور حکومت مصنوعی قلت، قیاس آرائی اور بلاجواز قیمتوں میں اضافے کی حوصلہ شکنی کے لیے مارکیٹ کی نگرانی کر رہی ہے۔

رانا تنویر حسین نے زرعی شعبے کی دیگر اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے بیج، زیتون اور بائیو ٹیکنالوجی سے متعلق پالیسی اقدامات کی بھی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ معیاری بیج، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور بہتر ریگولیٹری نظام فصلوں کی پیداوار بڑھانے اور کسانوں کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے اہم ہیں۔

پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے 4,500 روپے فی 40 کلوگرام اشاریاتی قیمت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، اگرچہ تنظیم نے گزشتہ ماہ 5,000 روپے فی 40 کلوگرام سپورٹ پرائس کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت کا 60 لاکھ ٹن تک ذخائر رکھنے کا اعلان عملی طور پر خریداری، صوبائی طلب اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے مشروط ہوگا۔