اسلام آباد: مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے مجموعی طور پر تقریباً 226.48 ارب روپے مالیت کے 14 ترقیاتی منصوبوں کو کلیئر کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس میں 40.9 ارب روپے مالیت کے 10 نسبتاً چھوٹے منصوبوں کی منظوری دی گئی، جبکہ چار بڑے منصوبے حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو بھجوا دیے گئے۔

ترقیاتی قواعد کے تحت سی ڈی ڈبلیو پی 7.5 ارب روپے تک کی لاگت کے منصوبوں کی خود منظوری دے سکتی ہے، جبکہ اس سے زیادہ لاگت کے منصوبوں کی تکنیکی جانچ کے بعد انہیں ایکنک کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ اجلاس میں پانی، زراعت، بجلی، ٹرانسپورٹ، تعلیم، نوجوانوں کی ترقی اور سرکاری نشریات سے متعلق منصوبوں پر غور کیا گیا۔

پانی اور زرعی شعبے میں خیبرپختونخوا کا تقریباً 69.89 ارب روپے کا ریزیلینٹ اریگیٹڈ ایگریکلچر لائیولی ہڈز ڈیولپمنٹ منصوبہ ایکنک کو بھیجا گیا۔ اس میں پیہور مین کینال کی بحالی، ملکھو آبپاشی تقسیم نظام کی تعمیر اور پیہور ہائی لیول کینال کی توسیع شامل ہے۔ منصوبے میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت بھی شامل ہوگی۔ پنجاب کے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور اضلاع کے لیے تقریباً 85.34 ارب روپے کا انٹیگریٹڈ ہل ٹورنٹ مینجمنٹ منصوبہ بھی ایکنک کو بھیجا گیا، جس میں سیلابی پانی کے انتظام، حفاظتی چینلز، ٹیلی میٹری اور مرکزی نگرانی کے نظام شامل ہیں۔

ٹرانسپورٹ کے شعبے میں چکدرہ سے تیمرگرہ تک این-45 کے 39 کلومیٹر حصے کی بہتری اور توسیع کا تقریباً 17.01 ارب روپے کا منصوبہ ایکنک کے لیے تجویز کیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد دیر، چترال اور ملحقہ سیاحتی و تجارتی علاقوں تک سڑک رابطہ بہتر بنانا ہے۔ اسی اجلاس میں شاہدرہ، لاہور کے امامیہ کالونی ریلوے کراسنگ پر آٹھ لین اوورہیڈ برج کی تقریباً 7.49 ارب روپے لاگت سے منظوری دی گئی۔

توانائی کے شعبے میں جھمپیر-I کے 220 کے وی گرڈ اسٹیشن پر پائلٹ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کی تقریباً 4.39 ارب روپے لاگت سے اصولی منظوری دی گئی تاکہ گرڈ استحکام اور قابلِ تجدید توانائی کے انضمام میں مدد مل سکے۔ نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے وزیراعظم سولر اسکیم، جس کی لاگت 13.32 ارب روپے بتائی گئی، بھی ایکنک کو بھیجی گئی۔

تعلیم اور نوجوانوں کے منصوبوں میں دانش اسکولوں، وزیراعظم ٹیلنٹ ہنٹ یوتھ اسپورٹس لیگ، نیشنل انوویشن ایوارڈ، اسپورٹس اکیڈمیز اور یوتھ اولمپکس سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔ پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کی ڈیجیٹل جدیدکاری اور مالی پائیداری کے لیے تقریباً 3.96 ارب روپے کے منصوبے کو بھی اصولی منظوری دی گئی۔

ان منصوبوں کی کلیئرنس کا مطلب یہ نہیں کہ ایکنک کو بھیجے گئے تمام بڑے منصوبوں پر فوری اخراجات شروع ہو گئے ہیں۔ متعلقہ بڑے منصوبوں کے لیے ایکنک کی حتمی منظوری اور مالی انتظامات درکار ہوں گے، جبکہ منظور شدہ منصوبوں پر عمل درآمد متعلقہ اداروں کے مقررہ طریقہ کار اور فنڈنگ کی دستیابی کے مطابق ہوگا۔