اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزارت صنعت و پیداوار کو یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے اثاثوں کی فروخت کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق زیر غور پورٹ فولیو میں 21 جائیدادیں شامل ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 12 ارب روپے بتائی گئی ہے۔

یہ فیصلہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے کاروباری ڈھانچے اور سرکاری ملکیت کے اثاثوں سے متعلق جاری اصلاحاتی عمل کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ای سی سی نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ جائیدادوں کے تصفیے اور فروخت کے لیے ضروری انتظامی اقدامات بلا تاخیر مکمل کیے جائیں تاکہ سرکاری وسائل غیر ضروری طور پر منجمد نہ رہیں۔

یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن طویل عرصے سے ملک بھر میں رعایتی یا سرکاری نگرانی میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی فروخت کے نظام کا حصہ رہی ہے۔ تاہم ادارے کی مالی کارکردگی، سبسڈی کے انتظام، آپریشنل اخراجات اور اثاثوں کے استعمال پر مختلف ادوار میں سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ حالیہ اصلاحاتی فیصلوں میں حکومت نے ایسے سرکاری تجارتی اداروں کے اثاثوں اور ذمہ داریوں کا ازسرنو جائزہ لینے پر توجہ دی ہے جن کا روایتی کاروباری ماڈل مالی دباؤ کا باعث بن رہا ہو۔

21 جائیدادوں کی بتائی گئی 12 ارب روپے کی مالیت تخمینی قدر ہے؛ حتمی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم بولی، مارکیٹ حالات، جائیداد کی قانونی حیثیت اور فروخت کے منظور شدہ طریقہ کار پر منحصر ہوگی۔ اس لیے تخمینی قیمت کو حتمی وصولی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح اثاثوں کی فروخت کے لیے شفاف تشخیص، مسابقتی عمل اور قانونی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہوگی۔

ای سی سی کے فیصلے کا مقصد اثاثوں کو جلد نمٹانا بتایا گیا ہے، تاہم اس عمل میں کارپوریشن کے سابق یا موجودہ ملازمین، واجبات اور دیگر مالی ذمہ داریوں کے معاملات الگ انتظامی فیصلوں کے تابع رہ سکتے ہیں۔ اثاثوں کی فروخت بذات خود تمام ادارہ جاتی ذمہ داریوں کے خاتمے کے مترادف نہیں ہوتی۔

حکومت سرکاری اداروں کے مالی بوجھ میں کمی اور غیر فعال اثاثوں کو قابل استعمال مالی وسائل میں تبدیل کرنے کی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ یوٹیلٹی اسٹورز کی جائیدادوں کے معاملے میں اگلا اہم مرحلہ فروخت کے طریقہ کار، ٹائم لائن اور کامیاب بولیوں کی تفصیلات ہوگا، جن سے واضح ہوگا کہ حکومت تخمینی مالیت کے مقابلے میں کتنی رقم حاصل کر پاتی ہے۔