اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی مسلسل دستیابی اور آٹے کی مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے گندم کے ذخائر 60 لاکھ ٹن تک برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے 26 اکتوبر کو کہا کہ حکومت سپلائی میں خلل سے بچنے کے لیے مناسب اسٹریٹجک ذخائر رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر مارکیٹ میں دستیاب مقدار بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر کے مطابق حالیہ عرصے میں گندم کی قیمت میں جو اضافہ دیکھا گیا وہ حقیقی قلت کے بجائے بعض مارکیٹ عناصر کی جانب سے مصنوعی دباؤ اور قیاس آرائی سے منسلک ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک میں مجموعی دستیابی ایسی سطح پر ہے جسے بہتر ذخیرہ کاری، صوبائی رابطہ کاری اور مارکیٹ نگرانی کے ذریعے منظم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم صارفین کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ سرکاری ذخائر اور پالیسی فیصلوں کا اثر آٹے کی خوردہ قیمت تک کتنی تیزی سے منتقل ہوتا ہے۔
پاکستان میں گندم بنیادی غذائی جنس ہے اور اس کی قیمت میں معمولی تبدیلی بھی گھرانوں کے خوراکی بجٹ اور مجموعی مہنگائی پر نمایاں اثر ڈالتی ہے۔ پیداوار، سرکاری خریداری، نجی ذخیرہ، صوبوں کے درمیان نقل و حرکت اور درآمد یا برآمد سے متعلق فیصلے گندم کی منڈی کے اہم عوامل ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت عموماً اسٹریٹجک ذخائر کو ایسے حفاظتی انتظام کے طور پر استعمال کرتی ہے جس سے فصلوں کے درمیانی عرصے یا کسی غیر متوقع سپلائی رکاوٹ کے دوران مارکیٹ کو سہارا دیا جا سکے۔
وزیر غذائی تحفظ نے ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قیمت بڑھانے کے خلاف نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اگر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گندم دستیاب ہو لیکن منڈی میں قیمتیں تیزی سے بڑھیں تو انتظامی اداروں کے لیے ذخائر، ترسیل اور تھوک و خوردہ نرخوں کے درمیان فرق کی جانچ اہم ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ صوبائی حکومتوں کا کردار بھی بنیادی ہے کیونکہ آٹے کی مقامی سپلائی، ملوں کو گندم کی دستیابی اور مارکیٹ انفورسمنٹ بڑی حد تک صوبائی انتظامیہ سے متعلق ہیں۔
60 لاکھ ٹن تک ذخائر برقرار رکھنے کا اعلان ایک پالیسی ہدف ہے، اسے اس بات کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا کہ ہر علاقے میں فوری طور پر قیمت کم ہو جائے گی۔ عملی نتیجہ نئی فصل کی صورتحال، سرکاری اور نجی اسٹاک کی حقیقی مقدار، نقل و حمل کے اخراجات اور مارکیٹ نگرانی پر منحصر ہوگا۔ آنے والے ہفتوں میں گندم اور آٹے کے تھوک و خوردہ نرخ اس بات کا اہم پیمانہ ہوں گے کہ حکومتی اقدامات صارفین تک کس حد تک پہنچتے ہیں۔
