اسلام آباد: سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے خیبر پختونخوا میں تقریباً 100 ارب روپے مالیت کے تین بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کو باضابطہ منظوری کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل، ایکنک، کو بھیج دیا ہے۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں ملک بھر کے مزید 11 منصوبوں کو بھی کلیئر کیا گیا، جن کی مجموعی تخمینی لاگت تقریباً 126.5 ارب روپے ہے۔ یوں اجلاس میں مجموعی طور پر 14 منصوبے زیر غور آئے جن کی لاگت تقریباً 226.48 ارب روپے بنتی ہے۔ مالی قواعد کے تحت سی ڈی ڈبلیو پی 7.5 ارب روپے تک کے منصوبے خود منظور کر سکتی ہے، جبکہ اس سے زیادہ مالیت کے منصوبے تکنیکی کلیئرنس کے بعد ایکنک کو بھیجے جاتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے اہم منصوبوں میں 69.89 ارب روپے مالیت کا ریزیلینٹ اریگیٹڈ ایگریکلچر لائیولی ہڈز ڈیولپمنٹ منصوبہ شامل ہے۔ اس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے 56.133 ارب روپے، یعنی تقریباً 200 ملین ڈالر، کی معاونت متوقع ہے جبکہ صوبائی حکومت 11.69 ارب روپے اور زمین کے حصول سے متعلق اخراجات فراہم کرے گی۔
منصوبے کے تحت پیہور مین کینال کی بحالی، ملکهو اریگیشن ڈسٹری بیوشن سسٹم کی تعمیر اور پیہور ہائی لیول کینال کی توسیع شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانا، زرعی پیداوار میں مدد دینا اور دیہی روزگار و آمدن کے مواقع کو مضبوط کرنا ہے۔
اجلاس میں پنجاب کے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور اضلاع کے لیے 85.34 ارب روپے مالیت کے انٹیگریٹڈ ہِل ٹورنٹ مینجمنٹ منصوبے کو بھی ایکنک بھیجنے کی سفارش کی گئی۔ اس منصوبے میں جدید آبپاشی، سیلابی حفاظتی چینلز، ٹیلی میٹری اور مرکزی نگرانی کے نظام شامل ہیں۔ سی ڈی ڈبلیو پی کی کلیئرنس حتمی مالی منظوری نہیں؛ بڑے منصوبوں پر عملدرآمد ایکنک کی منظوری اور متعلقہ مالی و انتظامی شرائط پوری ہونے کے بعد آگے بڑھے گا۔
