اسلام آباد: برطانوی حکومت کے بین الاقوامی چیوننگ اسکالرشپ پروگرام اور الائیڈ بینک لمیٹڈ نے پاکستانی امیدواروں کے لیے ایک نئی شراکت داری شروع کی ہے، جس کے تحت منتخب طلبہ کو برطانیہ کی جامعات میں مکمل مالی معاونت کے ساتھ ماسٹرز کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ ڈان کے مطابق الائیڈ بینک پاکستان میں مقامی مالی معاونت سے چیوننگ اسکالرشپ شراکت قائم کرنے والا پہلا ادارہ بن گیا ہے۔
اعلان کے مطابق چیوننگ-اے بی ایل اسکالرشپ کے تحت ہر سال دو اسکالرز کی معاونت کی جائے گی اور یہ انتظام تین تعلیمی سال تک جاری رہے گا۔ پہلا گروپ 2027-28 کے تعلیمی سال کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ یوں موجودہ منصوبے کے مطابق تین سال میں مجموعی طور پر چھ پاکستانی اسکالرز اس مخصوص شراکت داری سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اسکالرشپ میں ایسے تعلیمی شعبوں کو ترجیح دی جائے گی جنہیں پاکستان کی مستقبل کی معاشی اور تکنیکی ضروریات کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان میں مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل تبدیلی، معاشیات اور مالی شمولیت شامل ہیں۔ منتخب امیدوار برطانیہ کی جامعات میں متعلقہ ماسٹرز پروگرامز میں تعلیم حاصل کریں گے۔
پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے شراکت داری کو پاکستانی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری سے تعبیر کیا اور کہا کہ اس سے مستقبل کے رہنماؤں کو برطانیہ کی جامعات میں تعلیم اور بعد ازاں حاصل شدہ تجربہ پاکستان واپس لانے کا موقع ملے گا۔ الائیڈ بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو عائزید گل خود بھی سابق چیوننگ اسکالر ہیں اور انہوں نے 2001 میں یونیورسٹی آف مانچسٹر سے بزنس اکنامکس میں ماسٹرز کیا تھا۔
چیوننگ پروگرام دنیا بھر میں نجی کمپنیوں، غیر سرکاری تنظیموں، سرکاری اداروں اور برطانوی جامعات سمیت 140 سے زیادہ تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کرتا ہے۔ پاکستان میں نئی مقامی مالی شراکت کا مقصد سرکاری اسکالرشپ پروگرام اور نجی شعبے کے وسائل کو ملا کر مخصوص مہارتوں میں افرادی قوت کی ترقی کی حمایت کرنا ہے۔
اعلان کے مطابق 2027-28 کے پہلے دو چیوننگ-اے بی ایل اسکالرز کا انتخاب موجودہ درخواست گزاروں کے پول سے کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام چیوننگ درخواست گزار خودکار طور پر اس مخصوص اسکالرشپ کے اہل یا منتخب ہو جائیں گے؛ حتمی انتخاب چیوننگ کے متعلقہ انتخابی طریقہ کار اور شراکت داری کی شرائط کے مطابق ہوگا۔ نئی شراکت کا عملی اثر منتخب افراد کی تعداد میں محدود ہے، لیکن پاکستان میں نجی شعبے کی جانب سے بین الاقوامی اعلیٰ تعلیم کی براہ راست مالی معاونت کے ایک نئے ماڈل کے طور پر اسے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
