اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں پولیو وائرس کا ایک نیا کیس سامنے آیا ہے، جس کے بعد رواں سال پاکستان میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی مجموعی تعداد نو ہوگئی ہے۔ ڈان کی 5 نومبر کی رپورٹ کے مطابق تازہ کیس کی تصدیق متعلقہ قومی پولیو حکام کی جانب سے کی گئی۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کے تحت بچوں کو گھر گھر جا کر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جاتے ہیں، جبکہ ماحولیاتی نمونوں کے ذریعے بھی وائرس کی موجودگی کی نگرانی کی جاتی ہے۔ کسی نئے کیس کا سامنے آنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں وائرس کی منتقلی کا خطرہ بدستور موجود ہے اور حفاظتی ٹیکوں کی کوریج برقرار رکھنا ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا کے سرحدی اور بعض دور دراز اضلاع میں انسداد پولیو ٹیموں کو جغرافیائی، سلامتی اور رسائی سے متعلق مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ حکام بار بار والدین پر زور دیتے رہے ہیں کہ ہر مہم میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائے جائیں، کیونکہ بار بار خوراک دینے سے بچوں کی قوتِ مدافعت مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے۔
پولیو ایک متعدی وائرل بیماری ہے جو خاص طور پر کم عمر بچوں کو متاثر کر سکتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل فالج کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کا کوئی مخصوص علاج نہیں، اس لیے ویکسینیشن اور وائرس کی مسلسل نگرانی بیماری کے خاتمے کی حکمت عملی کے بنیادی اجزا ہیں۔
رواں سال کیسز کی تعداد نو تک پہنچنے کے باوجود ہر کیس کو الگ وبائیاتی واقعے کے طور پر جانچا جاتا ہے۔ تازہ تصدیق کو ملک بھر میں وائرس کی یکساں موجودگی نہیں سمجھا جا سکتا، لیکن یہ انسداد پولیو پروگرام کے لیے متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن، نگرانی اور رسائی کے اقدامات کو مضبوط رکھنے کی ضرورت اجاگر کرتی ہے۔
