لندن: شیورون کے چیف ایگزیکٹو مائیک ورتھ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری طویل تنازع کے دوران عالمی تیل اور ایندھن کی سپلائی کا حفاظتی مارجن مسلسل کم ہو رہا ہے، جس سے توانائی کا نظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ نازک ہو گیا ہے۔ انہوں نے لندن میں انرجی انٹیلی جنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات دونوں کی بنیادی منڈی سخت ہوتی جا رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ورتھ نے کہا کہ ایشیا میں حقیقی جسمانی ترسیل والے خام تیل کی لاگت بعض صورتوں میں 150 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے، جو تقریباً 100 ڈالر کے آس پاس موجود برینٹ فیوچر قیمت سے خاصی زیادہ ہے۔ انہوں نے ریفائنڈ مصنوعات، خصوصاً پٹرول اور ڈیزل، کی منڈی میں بھی تنگی کی نشاندہی کی جہاں قیمتوں پر خام تیل سے زیادہ دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔
توانائی کی بلند قیمتوں کے اثرات محدود کرنے کے لیے حکومتیں مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہیں۔ جی 7 ممالک نے گزشتہ ہفتے خام تیل اور ڈیزل کے اسٹریٹجک ذخائر سے مجموعی طور پر 100 ملین بیرل جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس طرح کے اقدامات کا مقصد عارضی طور پر رسد بڑھانا اور صارفین و صنعت پر قیمتوں کا دباؤ کم کرنا ہے۔
ورتھ نے ممکنہ برآمدی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں رسد پہلے ہی محدود ہو تو برآمدات روکنے سے مجموعی دستیابی مزید کم ہو سکتی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ امریکا بھی عالمی توانائی منڈی سے الگ نہیں اور کسی ایک ملک کی پابندی کے اثرات بین الاقوامی تجارت اور مقامی قیمتوں دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔ یہ شیورون کے سربراہ کا تجزیہ ہے، حتمی سرکاری پالیسی نہیں۔
توانائی منڈی کی آئندہ سمت تنازع کی شدت، پیداواری ممالک کی برآمدات، اسٹریٹجک ذخائر کے استعمال اور ریفائنری صلاحیت پر منحصر ہوگی۔ فیوچر اور حقیقی ترسیل کی قیمتوں میں فرق بھی اس بات کی علامت ہے کہ کاغذی منڈی اور فوری جسمانی رسد کے حالات ایک جیسے نہیں۔ صارفین کے لیے بنیادی خطرہ یہی ہے کہ سپلائی میں مزید رکاوٹ قیمتوں کو دوبارہ تیزی سے اوپر لے جا سکتی ہے۔
