واشنگٹن: عالمی بینک نے افریقہ کے لیے 2026 کی معاشی شرح نمو کا تخمینہ بڑھا کر 4.3 فیصد کر دیا ہے، جس کی وجہ خطے کی متعدد معیشتوں میں توقع سے بہتر کارکردگی بتائی گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق بینک نے تازہ جائزے میں معاشی سرگرمی کی مضبوطی کے ساتھ روزگار، پیداواری صلاحیت اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ افریقی معیشتوں کے لیے بہتر شرح نمو ایک مثبت علامت ہے، لیکن آبادی میں تیز اضافے، قرض کے دباؤ، محدود مالی گنجائش اور روزگار کی ضرورت کے باعث صرف مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ کافی نہیں ہوگا۔ فی کس آمدن اور معیاری ملازمتوں میں پائیدار بہتری کے لیے نجی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور انسانی سرمائے پر توجہ ضروری ہے۔

بینک نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو افریقہ میں پیداواری صلاحیت بڑھانے کے ممکنہ ذرائع میں شمار کیا ہے۔ اس کے مطابق اے آئی کے فوائد حاصل کرنے کے لیے قابل اعتماد بجلی، انٹرنیٹ رابطہ، ڈیٹا انفراسٹرکچر، ہنرمند افرادی قوت اور مناسب ضابطہ کاری درکار ہوگی۔ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے ساتھ تعلیم اور تربیت پر اخراجات بھی اہم ہوں گے تاکہ نئی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے مواقع زیادہ وسیع آبادی تک پہنچ سکیں۔

افریقہ کی معاشی صورتحال ملک بہ ملک خاصی مختلف ہے۔ بعض معیشتیں اجناس کی برآمدات پر انحصار کرتی ہیں جبکہ دیگر میں خدمات، زراعت یا مینوفیکچرنگ کا کردار زیادہ ہے۔ اس لیے 4.3 فیصد کا علاقائی تخمینہ ہر ملک کے لیے یکساں رفتار کی نمائندگی نہیں کرتا۔ عالمی قیمتیں، شرح سود، قرض کی ادائیگی، موسم اور سیاسی استحکام الگ الگ ممالک کے نتائج پر مختلف اثر ڈال سکتے ہیں۔

تازہ پیش گوئی افریقہ کے لیے نسبتاً بہتر مجموعی منظرنامہ پیش کرتی ہے، تاہم عالمی بینک نے پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ بلند نمو کو روزگار اور معیار زندگی میں حقیقی بہتری میں تبدیل کرنے کے لیے اصلاحات اور سرمایہ کاری جاری رکھی جائے۔ مستقبل کی کارکردگی اس بات پر منحصر ہوگی کہ ممالک مالی دباؤ، توانائی کی دستیابی اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے چیلنجوں سے کس طرح نمٹتے ہیں۔