واشنگٹن: عالمی بینک نے جنوبی ایشیا کے لیے 2026 کی معاشی نمو کا تخمینہ بڑھا کر 6.9 فیصد کر دیا ہے، جو اس کے سابقہ اندازے سے 0.6 فیصد پوائنٹ زیادہ ہے۔ رائٹرز کے مطابق بینک کا کہنا ہے کہ بلند توانائی قیمتوں کے باوجود خطے میں کھپت کی رفتار توقع سے زیادہ مضبوط رہی، جسے حکومتی اقدامات، ترسیلات زر اور داخلی طلب نے سہارا دیا۔
عالمی بینک کی چیف ایشیا اکانومسٹ فرانزسکا اوہنسورج نے رائٹرز کو بتایا کہ جنوبی ایشیا توانائی کی درآمدات پر خاصا انحصار کرتا ہے، لیکن عالمی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود صارفین کی طلب مکمل طور پر متاثر نہیں ہوئی۔ بینک کے مطابق حکومتی سطح پر صارفین کو قیمتوں کے اثر سے جزوی تحفظ، مضبوط ترسیلات زر اور مقامی طلب نے معاشی سرگرمی کو برقرار رکھنے میں مدد دی۔
بینک نے بھارت، جو خطے کی سب سے بڑی معیشت ہے، کے لیے مالی سال 2026-27 کی شرح نمو 7.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ جون کے 6.6 فیصد تخمینے سے زیادہ ہے، اگرچہ گزشتہ مالی سال کی 8.6 فیصد نمو سے کم ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بلند مہنگائی کا اثر معاشی سرگرمی پر تاخیر سے ظاہر ہو سکتا ہے اور قیمتوں کا دباؤ 2027 تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
عالمی بینک نے خطرات میں مسلسل بلند خام تیل کی قیمتوں، شدید ایل نینو یا دوسرے موسمی جھٹکے اور عالمی مالیاتی منڈی میں ممکنہ بڑی تصحیح کو شامل کیا ہے۔ زرعی پیداوار پر موسم کے منفی اثرات دیہی آمدن اور خوراک کی قیمتوں کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ مہنگی توانائی درآمدی بل بڑھا سکتی ہے۔
رپورٹ نے مصنوعی ذہانت کو درمیانی مدت میں بہتر روزگار اور پیداواری صلاحیت کے لیے ایک ممکنہ موقع بھی قرار دیا۔ تاہم بینک کے مطابق جنوبی ایشیا میں اے آئی اپنانے کی شرح ترقی یافتہ معیشتوں سے اب بھی کم ہے۔ تازہ تخمینہ پورے خطے کی مجموعی تصویر پیش کرتا ہے؛ ہر ملک کی شرح نمو، مہنگائی، مالی حالات اور بیرونی خطرات مختلف ہیں، اس لیے 6.9 فیصد کو کسی ایک جنوبی ایشیائی ملک کی انفرادی پیش گوئی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
