بیجنگ: چین کے 2030 تک خلابازوں کو چاند کی سطح پر اتارنے کے منصوبے کو اہم تکنیکی آزمائشوں کے شیڈول میں تاخیر کے باعث دباؤ کا سامنا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پروگرام کے لیے تیار کیے جانے والے لانگ مارچ 10 راکٹ کی بعض اہم آزمائشیں متوقع رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکیں، جس سے قمری مشن کی مقررہ مدت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
چین نے سرکاری طور پر اب تک 2030 سے پہلے انسان کو چاند پر اتارنے کا ہدف برقرار رکھا ہے۔ اس لیے موجودہ صورتحال کو باضابطہ التوا یا نئی تاریخ کا اعلان نہیں سمجھا جا سکتا۔ رائٹرز کی رپورٹ میں پروگرام سے واقف معلومات اور دستیاب شیڈول کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ راکٹ اور دیگر نظاموں کی جانچ میں تاخیر مشن کے لیے دستیاب وقت کو محدود کر سکتی ہے۔
لانگ مارچ 10 راکٹ چین کے مستقبل کے انسان بردار قمری پروگرام کا مرکزی حصہ ہے۔ منصوبے کے تحت خلابازوں کو چاند کے مدار تک پہنچانے، قمری لینڈر کے ذریعے سطح پر اتارنے اور پھر محفوظ واپسی کے لیے متعدد نئی ٹیکنالوجیز کو مربوط کرنا ہوگا۔ ان میں نئی نسل کا مینگژو خلائی جہاز، قمری لینڈر اور زمین سے لانچ کے لیے بھاری راکٹ شامل ہیں۔ ہر نظام کو الگ اور پھر مشترکہ آزمائشوں سے گزرنا ضروری ہے۔
چین کا قمری پروگرام امریکا کے آرٹیمس پروگرام کے ساتھ ایک وسیع خلائی مقابلے کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے۔ دونوں ممالک چاند پر انسان کی مستقل یا طویل مدتی موجودگی کے لیے بنیادی ڈھانچے، سائنسی تحقیق اور مستقبل کے مشنز پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم ہر پروگرام کے تکنیکی تقاضے اور شیڈول مختلف ہیں اور خلائی پروازوں میں حفاظتی جانچ کی وجہ سے تاریخوں میں تبدیلی معمول کی بات ہے۔
بیجنگ نے حالیہ برسوں میں چاند سے نمونے واپس لانے، مریخ پر مشن اور اپنے تیانگونگ خلائی اسٹیشن کی تعمیر سمیت کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انسان بردار قمری لینڈنگ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ مرحلہ ہوگا کیونکہ اس میں خلابازوں کی زندگی، مدار میں ملاپ، سطح پر اترنے اور زمین پر واپسی کے متعدد نظام بیک وقت قابلِ اعتماد ہونا ضروری ہیں۔
فی الحال اہم نکتہ یہ ہے کہ 2030 کا سرکاری ہدف منسوخ نہیں ہوا۔ ممکنہ تاخیر کا حتمی تعین آئندہ راکٹ آزمائشوں، قمری لینڈر اور مینگژو خلائی جہاز کی پیش رفت اور چین کی انسان بردار خلائی ایجنسی کے باضابطہ شیڈول سے ہوگا۔

